حدیث نمبر: 2485
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الطَّائِفِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ قَسْمٍ قُسِمَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَهُوَ عَلَى مَا قُسِمَ ، وَكُلُّ قَسْمٍ أَدْرَكَهُ الْإِسْلَامُ فَهُوَ عَلَى قَسْمِ الْإِسْلَامِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” زمانہ جاہلیت میں جو تقسیم ہو چکی ہے وہ اسی طرح باقی رہے گی جیسی وہ ہوئی ہے ، اور جو تقسیم زمانہ اسلام میں ہوئی ہے وہ اسلام کے اصولوں کے مطابق ہو گی “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الرهون / حدیث: 2485
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث «سنن ابی داود/الفرائض 11 ( 2914 ) ، ( تحفة الأشراف : 5383 ) ( صحیح ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 2914

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´پانی کی تقسیم کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زمانہ جاہلیت میں جو تقسیم ہو چکی ہے وہ اسی طرح باقی رہے گی جیسی وہ ہوئی ہے، اور جو تقسیم زمانہ اسلام میں ہوئی ہے وہ اسلام کے اصولوں کے مطابق ہو گی۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2485]
اردو حاشہ:
فوائد و  مسائل: (1)
مالی معاملات میں جو لین دین کسی شخص نے اسلام قبول کرنے سے پہلے کیا ہو اس کی غلطیاں معاف ہیں اور اس کی ملکیت جائز سمجھی جائے گی۔

(2)
اسلا م قبول کرنے سے پہلے مشترک چیز کوغیر اسلامی رواج کےمطابق تقسیم کیا گیا ہو تواسلام قبول کرنے کے بعد اس کی دوبارہ تقسیم نہیں کی جائے گی۔

(3)
اسلام قبول کرنے کے بعد مسلمان اسلامی قوانین کا پابند ہے لہٰذا کوئی بھی تقسیم یا تجارت یا کوئی اور معاملہ جو بھی ہوا اسے اسلامی قوانین کی روشنی میں پرکھا جائے گا اورخلاف شریعت معاملات کو کالعدم  قرار دیا جائے گا۔

(4)
اسلام سے پہلے کسی غیر اسلامی لین دین کا معاملہ ہوا ہو لیکن ادائیگی نہ ہوئی ہوتو معاملے کو اسلامی قانون کی روشنی میں طے کیا جائے گا مثلاً اگر سود پرقرض دیا تھا پھر اسلام قبول کرلیا تواب وہ سود وصول نہیں کرسکتا صرف اصل رقم وصول کر سکتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2485 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 2914 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´میراث کی تقسیم سے پہلے اگر وارث مسلمان ہو جائے تو اس کے حکم کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زمانہ جاہلیت میں جو ترکہ تقسیم ہو گیا ہو وہ زمانہ اسلام میں بھی اسی حال پر باقی رہے گا، اور جو ترکہ اسلام کے زمانہ تک تقسیم نہیں ہوا تو اب اسلام کے آ جانے کے بعد اسلام کے قاعدہ و قانون کے مطابق تقسیم کیا جائے گا۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الفرائض /حدیث: 2914]
فوائد ومسائل:
فائدہ: اسلام نے آنے کے بعد جاہلیت کے اعمال کے کوئی معنی نہیں۔
ایسا آدمی جو جاہلیت کے اعمال پر کاربند ہو اس نے یا تو اسلام قبول ہی نہیں کیا۔
یا کیا ہے تو پھر اسلام کو دین نہیں سمجھا۔
اس لئے واجب ہے کہ عقائد وعبادات کے بعد مالی اور غیر مالی سب معاملات اصول اسلام کے مطابق عمل میں لائے جایئں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2914 سے ماخوذ ہے۔