حدیث نمبر: 2474
حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ خَالِدٍ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ غُرَابٍ ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ مَرْزُوقٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جَدْعَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ ؟ قَالَ : " الْمَاءُ وَالْمِلْحُ وَالنَّارُ " ، قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا الْمَاءُ قَدْ عَرَفْنَاهُ فَمَا بَالُ الْمِلْحِ وَالنَّارِ ، قَالَ : يَا حُمَيْرَاءُ ! مَنْ أَعْطَى نَارًا ، فَكَأَنَّمَا تَصَدَّقَ بِجَمِيعِ مَا أَنْضَجَتْ تِلْكَ النَّارُ ، وَمَنْ أَعْطَى مِلْحًا ، فَكَأَنَّمَا تَصَدَّقَ بِجَمِيعِ مَا طَيَّبَ ذَلِكَ الْمِلْحُ ، وَمَنْ سَقَى مُسْلِمًا شَرْبَةً مِنْ مَاءٍ حَيْثُ يُوجَدُ الْمَاءُ ، فَكَأَنَّمَا أَعْتَقَ رَقَبَةً ، وَمَنْ سَقَى مُسْلِمًا شَرْبَةً مِنْ مَاءٍ حَيْثُ لَا يُوجَدُ الْمَاءُ ، فَكَأَنَّمَا أَحْيَاهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` انہوں نے پوچھا : اللہ کے رسول ! کون سی ایسی چیز ہے جس کا روکنا جائز نہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پانی ، نمک اور آگ “ میں نے کہا : اللہ کے رسول ! پانی تو ہمیں معلوم ہے کہ اس کا روکنا جائز اور حلال نہیں ؟ لیکن نمک اور آگ کیوں جائز نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے حمیراء ! ۱؎ جس نے آگ دی گویا اس نے وہ تمام کھانا صدقہ کیا جو اس پر پکا ، اور جس نے نمک دیا گویا اس نے وہ تمام کھانا صدقہ کیا جس کو اس نمک نے مزے دار بنایا ، اور جس نے کسی مسلمان کو جہاں پانی ملتا ہے ، ایک گھونٹ پانی پلایا گویا اس نے ایک غلام آزاد کیا ، اور جس نے کسی مسلمان کو ایسی جگہ ایک گھونٹ پانی پلایا جہاں پانی نہ ملتا ہو گویا اس نے اس کو نئی زندگی بخشی “ ۔

وضاحت:
۱؎: حمیراء: حمراء کی تصغیر ہے یعنی اے گوری چٹی سرخی مائل رنگت والی۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الرهون / حدیث: 2474
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ابن جدعان: ضعيف, وتلميذه زهير بن مرزوق: مجهول (تقريب: 2050), وعلي بن غراب عنعن (كان يدلس: تق 4783), وللحديث شاهدان ضعيفان جدًا, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 468
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 16121 ، ومصباح الزجاجة : 871 ) ( ضعیف ) » ( علی بن زید بن جدعان ضعیف راوی ہیں ، نیز ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الضعیفة ، للالبانی : 3384 )