حدیث نمبر: 2471
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، وَهِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ أَصْوَاتًا فَقَالَ : " مَا هَذَا الصَّوْتُ " قَالُوا : النَّخْلُ يُؤَبِّرُونَهَا ، فَقَالَ : " لَوْ لَمْ يَفْعَلُوا لَصَلَحَ " فَلَمْ يُؤَبِّرُوا عَامَئِذٍ فَصَارَ شِيصًا ، فَذَكَرُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " إِنْ كَانَ شَيْئًا مِنْ أَمْرِ دُنْيَاكُمْ فَشَأْنُكُمْ بِهِ ، وَإِنْ كَانَ مِنْ أُمُورِ دِينِكُمْ فَإِلَيَّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ آوازیں سنیں تو پوچھا : ” یہ کیسی آواز ہے “ ؟ لوگوں نے کہا : لوگ کھجور کے درختوں میں پیوند لگا رہے ہیں ۱؎ ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایسا نہ کریں تو بہتر ہو گا “ چنانچہ اس سال ان لوگوں نے پیوند نہیں لگایا تو کھجور خراب ہو گئی ، لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہاری دنیا کا جو کام ہو ، اس کو تم جانو ، البتہ اگر وہ تمہارے دین سے متعلق ہو تو اسے مجھ سے معلوم کیا کرو “ ۔

وضاحت:
۱؎: «تأبیر» یا «تلقیح» : نر کھجور کے شگوفے (کلی) مادہ کھجور میں ڈالنے کو «تلقیح» یا «تأبیر» کہتے ہیں، ایسا کرنے سے کھجور کے درخت خوب پھل لاتے ہیں۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الرهون / حدیث: 2471
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الفضائل 38 ( 2363 ) ، ( تحفة الأشراف : 338 ، 16875 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 2/123 ، 152 ) ( صحیح ) »