سنن ابن ماجه
كتاب الرهون— کتاب: رہن کے احکام و مسائل
بَابُ : مُعَامَلَةِ النَّخِيلِ وَالْكُرُومِ باب: کھجور اور انگور کی کھیتی کو بٹائی پر دینے کا معاملہ۔
حدیث نمبر: 2468
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ تَوْبَةَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَعْطَى خَيْبَرَ أَهْلَهَا عَلَى النِّصْفِ نَخْلِهَا وَأَرْضِهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر والوں کو خیبر کی زمین اور درختوں کو نصف پیداوار کی بٹائی پر دیا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 1820 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´(زکاۃ میں) کھجور اور انگور کا اندازہ لگانا۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب خیبر فتح کیا، تو آپ نے ان سے شرط لے لی کہ زمین آپ کی ہو گی، اور ہر صفراء اور بیضاء یعنی سونا و چاندی بھی آپ ہی کا ہو گا، اور آپ سے خیبر والوں نے کہا: ہم یہاں کی زمین کے بارے میں زیادہ بہتر جانتے ہیں، لہٰذا آپ ہمیں یہ دے دیجئیے، ہم اس میں کھیتی کریں گے، اور جو پھل پیدا ہو گا وہ آدھا آدھا کر لیں گے، اسی شرط پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی زمین ان کے حوالے کر دی، جب کھجور توڑنے کا وقت آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو ان۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الزكاة/حدیث: 1820]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب خیبر فتح کیا، تو آپ نے ان سے شرط لے لی کہ زمین آپ کی ہو گی، اور ہر صفراء اور بیضاء یعنی سونا و چاندی بھی آپ ہی کا ہو گا، اور آپ سے خیبر والوں نے کہا: ہم یہاں کی زمین کے بارے میں زیادہ بہتر جانتے ہیں، لہٰذا آپ ہمیں یہ دے دیجئیے، ہم اس میں کھیتی کریں گے، اور جو پھل پیدا ہو گا وہ آدھا آدھا کر لیں گے، اسی شرط پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی زمین ان کے حوالے کر دی، جب کھجور توڑنے کا وقت آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو ان۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الزكاة/حدیث: 1820]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
جو زمین جنگ کر کے کافروں سے چھین لی جائے وہ اسلامی سلطنت کی ملیکت ہوتی ہے، اسے خراجی زمین کہتے ہیں۔
اس کی پیداوار خلیفۃ المسلمین کی صواب دید کے مطابق ملک وملت کے فائدے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
(2)
مزارعت، یعنی زمین کا مالک خود کاشت کرنے کے بجائے کسی کو کاشت کرنے کے لیے کہے اور پیداوار نصف نصف یا کم و بیس طے شدہ شرح سے باہم تقسیم کر لی جائے جائز ہے۔
(3)
کھجور اور انگور وغیرہ کے باغوں کے بارے میں بھی یہ معاہدہ کیا جا سکتا ہے۔
(4)
ذمیوں اور غیر مسلموں سے تجارتی تعلقات قائم کیے جا سکتے ہیں، بشرطیکہ کوئی لین دین اسلامی قوانین کے خلاف نہ ہو۔
(5)
جو پھل خشک ہونے سے پہلے تازہ استعمال کیا جاتا ہے، اس کے بارے میں اندازے سے مقدار کا تعین کیا جا سکتا ہے تاکہ خشک ہونے پر طے شدہ مقدار وصول کر لی جائے۔
(6)
یہود نے غلط اندازے کا الزام اس لیے لگایا تھا کہ انہیں کچھ رشوت دے کر اندازہ کم کروا لیا جائے لیکن حضرت عبداللہ بن رواحہ نے دیانت داری کا رشتہ ترک کرنے سے انکار کر دیا۔
(7)
حضرت ابن رواحہ نے قانون کے مطابق اندازہ لگا کر یہود کو اختیار دیا تھا کہ وہ پھل اتارنے کے وقت اس اندازے کا نصف، یعنی مسلمانوں کا حصہ ادا کردیں اور باقی اپنی سہولت کے مطابق اب بھی اور بعد میں بھی استعمال کرتے رہیں۔
ان کے اعتراض پر فرمایا کہ چلو ہم یہ مقدار تمہیں ادا کر دیتے ہیں اور پھل ہم خود اتار لیں گے تاکہ تمہارے کہنے کے مطابق تمہیں جو نقصان ہوتا ہے وہ ہمیں ہو جائے، مثلاً: اگر کسی کے درختوں کی پیداوار کا اندازہ سو من لگایا گیا ہے تو اصول کے مطابق یہود کو چاہیے کہ وہ مسلمانوں کو پچاس من کھجوریں دے دیں لیکن اگر ان کا خیال ہے کہ پیداوار سو من نہیں اسی (80)
من ہے تو ہم خود سارا پھل اتار کر اس سے پچاس من انہیں دےدیں گے۔
اگر ان کا اعتراض سچ ہے تو اس پیشکش کو قبول کرنے کی صورت میں انہیں دس من کا فائدہ ہو جائے گا لیکن چونکہ حضرت ابن رواحہ کا اندازہ درست تھا، اس لیے یہودیوں نے یہ پیشکش قبول نہ کی اور ان سے صحیح اندازے کے مطابق حصہ وصول کیا گیا۔
(8)
انصاف پر عمل کرنے میں اجتماعی فائدہ ہے جس کی وجہ سے انصاف پر کاربند رہنے والا بھی دنیا و آخرت میں فائدے میں رہتا ہے، جب کہ بے انصافی کی صورت میں مجرم بھی اس کے اثرات بد سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔
(9)
زراعت سے تعلق رکھنے والے دیگر مسائل کتاب التجارات اور کتاب الرھون میں ذکر کیے جائیں گے۔
إن شاء اللہ
فوائد و مسائل:
(1)
جو زمین جنگ کر کے کافروں سے چھین لی جائے وہ اسلامی سلطنت کی ملیکت ہوتی ہے، اسے خراجی زمین کہتے ہیں۔
اس کی پیداوار خلیفۃ المسلمین کی صواب دید کے مطابق ملک وملت کے فائدے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
(2)
مزارعت، یعنی زمین کا مالک خود کاشت کرنے کے بجائے کسی کو کاشت کرنے کے لیے کہے اور پیداوار نصف نصف یا کم و بیس طے شدہ شرح سے باہم تقسیم کر لی جائے جائز ہے۔
(3)
کھجور اور انگور وغیرہ کے باغوں کے بارے میں بھی یہ معاہدہ کیا جا سکتا ہے۔
(4)
ذمیوں اور غیر مسلموں سے تجارتی تعلقات قائم کیے جا سکتے ہیں، بشرطیکہ کوئی لین دین اسلامی قوانین کے خلاف نہ ہو۔
(5)
جو پھل خشک ہونے سے پہلے تازہ استعمال کیا جاتا ہے، اس کے بارے میں اندازے سے مقدار کا تعین کیا جا سکتا ہے تاکہ خشک ہونے پر طے شدہ مقدار وصول کر لی جائے۔
(6)
یہود نے غلط اندازے کا الزام اس لیے لگایا تھا کہ انہیں کچھ رشوت دے کر اندازہ کم کروا لیا جائے لیکن حضرت عبداللہ بن رواحہ نے دیانت داری کا رشتہ ترک کرنے سے انکار کر دیا۔
(7)
حضرت ابن رواحہ نے قانون کے مطابق اندازہ لگا کر یہود کو اختیار دیا تھا کہ وہ پھل اتارنے کے وقت اس اندازے کا نصف، یعنی مسلمانوں کا حصہ ادا کردیں اور باقی اپنی سہولت کے مطابق اب بھی اور بعد میں بھی استعمال کرتے رہیں۔
ان کے اعتراض پر فرمایا کہ چلو ہم یہ مقدار تمہیں ادا کر دیتے ہیں اور پھل ہم خود اتار لیں گے تاکہ تمہارے کہنے کے مطابق تمہیں جو نقصان ہوتا ہے وہ ہمیں ہو جائے، مثلاً: اگر کسی کے درختوں کی پیداوار کا اندازہ سو من لگایا گیا ہے تو اصول کے مطابق یہود کو چاہیے کہ وہ مسلمانوں کو پچاس من کھجوریں دے دیں لیکن اگر ان کا خیال ہے کہ پیداوار سو من نہیں اسی (80)
من ہے تو ہم خود سارا پھل اتار کر اس سے پچاس من انہیں دےدیں گے۔
اگر ان کا اعتراض سچ ہے تو اس پیشکش کو قبول کرنے کی صورت میں انہیں دس من کا فائدہ ہو جائے گا لیکن چونکہ حضرت ابن رواحہ کا اندازہ درست تھا، اس لیے یہودیوں نے یہ پیشکش قبول نہ کی اور ان سے صحیح اندازے کے مطابق حصہ وصول کیا گیا۔
(8)
انصاف پر عمل کرنے میں اجتماعی فائدہ ہے جس کی وجہ سے انصاف پر کاربند رہنے والا بھی دنیا و آخرت میں فائدے میں رہتا ہے، جب کہ بے انصافی کی صورت میں مجرم بھی اس کے اثرات بد سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔
(9)
زراعت سے تعلق رکھنے والے دیگر مسائل کتاب التجارات اور کتاب الرھون میں ذکر کیے جائیں گے۔
إن شاء اللہ
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1820 سے ماخوذ ہے۔