حدیث نمبر: 2466
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ زَرَعَ فِي أَرْضِ قَوْمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ فَلَيْسَ لَهُ مِنَ الزَّرْعِ شَيْءٌ وَتُرَدُّ عَلَيْهِ نَفَقَتُهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص کسی کی زمین میں بغیر اس کی اجازت کے کھیتی کرے تو اس میں سے اس کو کچھ نہیں ملے گا ، البتہ اس کا خرچ دلا دیا جائے گا “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الرهون / حدیث: 2466
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, سنن أبي داود (3403) ترمذي (1366), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 467
تخریج حدیث «سنن ابی داود/البیوع 33 ( 3403 ) ، سنن الترمذی/الأحکام 29 ( 1366 ) ، ( تحفة الأشراف : 3570 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 3/465 ، 4/141 ) ( صحیح ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 1366 | سنن ابي داود: 3403 | بلوغ المرام: 757

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´بلا اجازت دوسرے کی زمین میں کھیتی کرنے کا بیان۔`
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی کی زمین میں بغیر اس کی اجازت کے کھیتی کرے تو اس میں سے اس کو کچھ نہیں ملے گا، البتہ اس کا خرچ دلا دیا جائے گا۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2466]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نےسنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے صحیح قرار دیا ہے لہٰذا مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود قابل عمل اورقابل حجت ہے۔
مزید تفصیل کےلیے دیکھیے: (الموسوعة الحدیثیة مسند الإمام أحمد: 25 ؍138، 142 والإراواء للألبانی رقم: 1519، الضعیفة: 1/ 141حدیث: 88)

(2)
جس طرح کسی کو کاشت کےلیے بلامعاوضہ زمین عاریتاً دے دینا بڑے ثواب کا کام ہے اسی طرح کسی کی زمین پراس کی اجازت کے بغیر فصل کاشت کرلینا بڑا گناہ ہے۔
اگر ایک آدمی دوسرے کی زمین میں بلا اجازت کاشت کرے تواس کی سزا یہ ہے کہ وہ پیداوار زمین کے مالک کودے دی جائے۔

(3)
اس صورت میں کاشت کرنے والے کوصرف اس کا خرچ واپس کیا جائے گا مثلاً بیج اورکھاد کی قیمت یا اگر کرائے پرٹریکٹر لے ہل چلایا ہے توٹریکٹر کا کرایہ وغیرہ۔
اس کی محنت کا اسے کوئی معاوضہ نہیں دیا جائے گا۔
یہ اس کی سزا ہے کہ اسے نہ فصل ملے اورنہ اس کی محنت کا معاوضہ۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2466 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1366 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´دوسرے کی زمین میں بغیر اجازت فصل بونے کا بیان۔`
رافع بن خدیج رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص دوسرے کی زمین میں ان کی اجازت کے بغیر فصل بوئے، اس کو فصل سے کچھ نہیں ملے گا وہ صرف خرچ لے سکتا ہے۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الأحكام/حدیث: 1366]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اور یہی قول راجح ہے اس کے برخلاف کچھ لوگوں کی رائے یہ ہے کہ فصل تو غاصب کی ہوگی اورزمین کا مالک اس سے زمین کا کرایہ وصول کرے گا، مگر اس قول پرکوئی دلیل ایسی نہیں جسے اس حدیث کے مقابلہ میں پیش کیا جاسکے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1366 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3403 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´زمین کے مالک کی اجازت کے بغیر زمین میں کھیتی کرنے کا بیان۔`
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے دوسرے لوگوں کی زمین میں بغیر ان کی اجازت کے کاشت کی تو اسے کاشت میں سے کچھ نہیں ملے گا صرف اس کا خرچ ملے گا۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3403]
فوائد ومسائل:
کسی دوسرے کی ملکیتی زمین میں بلااجازت تصرف جائز نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3403 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 757 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´غصب کا بیان`
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کسی نے دوسرے لوگوں کی زمین میں ان کی اجازت کے بغیر زراعت کی تو اسے اس زراعت میں سے کوئی حصہ نہیں ملے گا۔ اسے صرف وہ اخراجات ملیں گے جو اس نے خرچ کئے ہیں۔ اسے احمد اور نسائی کے علاوہ چاروں نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے حسن کہا ہے اور کہا جاتا ہے کہ بخاری نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 757»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، البيوع، باب في زرع الأرض بغير إذن صاحبها، حديث:3403، والترمذي، الأحكام، حديث:1366، وابن ماجه، الرهون، حديث:2466، وأحمد:4 /141.* عطاء لم يسمع من رافع رضي الله عنه، وأبوإسحاق عنعن.»
تشریح: مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے دیگر شواہد اور متابعات کی وجہ سے صحیح قرار دیا ہے اور انھوں نے اس کی بابت سیرحاصل بحث کی ہے جس سے تصحیح حدیث والی رائے ہی اقرب الی الصواب معلوم ہوتی ہے۔
بنابریں مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود دیگر شواہد اور متابعات کی بنا پر قابل حجت اور قابل عمل ہے۔
واللّٰہ أعلم۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعۃ الحدیثیۃ مسند الإمام أحمد:۲۵ /۱۳۸ .۱۴۲‘ والإراوء‘ رقم:۱۵۱۹‘ والضعیفۃ:۱ /۱۴۱‘ حدیث:۸۸)
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 757 سے ماخوذ ہے۔