سنن ابن ماجه
(أبواب كتاب السنة)— (ابواب کتاب: سنت کی اہمیت و فضیلت)
بَابُ : مَنْ كَرِهَ أَنْ يُوطَأَ عَقِبَاهُ باب: اس کا ذکر جس کو یہ ناپسند ہو کہ لوگ اس کے پیچھے پیچھے چلیں۔
حدیث نمبر: 246
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم إِذَا مَشَى مَشَى أَصْحَابُهُ أَمَامَهُ وَتَرَكُوا ظَهْرَهُ لِلْمَلَائِكَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب چلتے تو صحابہ رضی اللہ عنہم آپ کے آگے آگے چلتے اور آپ کی پیٹھ فرشتوں کے لیے چھوڑ دیتے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´اس کا ذکر جس کو یہ ناپسند ہو کہ لوگ اس کے پیچھے پیچھے چلیں۔`
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب چلتے تو صحابہ رضی اللہ عنہم آپ کے آگے آگے چلتے اور آپ کی پیٹھ فرشتوں کے لیے چھوڑ دیتے۔ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 246]
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب چلتے تو صحابہ رضی اللہ عنہم آپ کے آگے آگے چلتے اور آپ کی پیٹھ فرشتوں کے لیے چھوڑ دیتے۔ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 246]
اردو حاشہ: (1)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جب کچھ لوگ بزرگ شخصیت کے آگے چلیں اور کچھ پیچھے چلیں تو یہ درست ہے، ممنوع صرف اس وقت ہے جب سب لوگ پیچھے چلیں۔
(2)
بزرگ شخصیت کے آگے چلنا ادب کے منافی نہیں۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جب کچھ لوگ بزرگ شخصیت کے آگے چلیں اور کچھ پیچھے چلیں تو یہ درست ہے، ممنوع صرف اس وقت ہے جب سب لوگ پیچھے چلیں۔
(2)
بزرگ شخصیت کے آگے چلنا ادب کے منافی نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 246 سے ماخوذ ہے۔