سنن ابن ماجه
كتاب الرهون— کتاب: رہن کے احکام و مسائل
بَابُ : الرَّجُلِ يَسْتَقِي كُلَّ دَلْوٍ بِتَمْرَةٍ وَيَشْتَرِطُ جَلْدَةً باب: ایک ڈول پانی کھینچنے پر ایک عمدہ کھجور لینے کی شرط لگانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لِي أَرَى لَوْنَكَ مُنْكَفِئًا ، قَالَ : " الْخَمْصُ " فَانْطَلَقَ الْأَنْصَارِيُّ إِلَى رَحْلِهِ فَلَمْ يَجِدْ فِي رَحْلِهِ شَيْئًا فَخَرَجَ يَطْلُبُ فَإِذَا هُوَ بِيَهُودِيٍّ يَسْقِي نَخْلًا ، فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ لِلْيَهُودِيِّ : أَسْقِي نَخْلَكَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : كُلُّ دَلْوٍ بِتَمْرَةٍ . وَاشْتَرَطَ الْأَنْصَارِيُّ أَنْ لَا يَأْخُذَ خَدِرَةً وَلَا تَارِزَةً وَلَا حَشَفَةً ، وَلَا يَأْخُذَ إِلَّا جَلْدَةً ، فَاسْتَقَى بِنَحْوٍ مِنْ صَاعَيْنِ ، فَجَاءَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ایک انصاری نے آ کر عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا وجہ ہے کہ میں آپ کا رنگ بدلا ہوا پاتا ہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بھوک سے “ ، یہ سن کر انصاری اپنے گھر گئے ، وہاں انہیں کچھ نہ ملا ، پھر کوئی کام ڈھونڈنے نکلے ، تو دیکھا کہ ایک یہودی اپنے کھجور کے درختوں کو پانی دے رہا ہے ، انصاری نے یہودی سے کہا : میں تمہارے درختوں کو سینچ دوں ؟ اس نے کہا : ہاں ، سینچ دو ، کہا : ہر ڈول کے بدلے ایک کھجور لوں گا ، اور انصاری نے یہ شرط بھی لگا لی کہ کالی ، سوکھی اور خراب کھجوریں نہیں لوں گا ، صرف اچھی ہی لوں گا ، اس طرح انہوں نے دو صاع کے قریب کھجوریں حاصل کیں ، اور انہیں لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے ۔