حدیث نمبر: 2447
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ أَبِي حَيَّةَ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : " كُنْتُ أَدْلُو الدَّلْوَ بِتَمْرَةٍ وَأَشْتَرِطُ أَنَّهَا جَلْدَةٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں ایک کھجور کے بدلے ایک ڈول پانی نکالتا تھا ، اور یہ شرط لگا لیتا تھا کہ وہ کھجور خشک اور عمدہ ہو ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الرهون / حدیث: 2447
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, سفيان الثوري و أبو إسحاق عنعنا, وللحديث شواهد ضعيفة, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 467
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 10325 ، ومصباح الزجاجة : 864 ) ( حسن ) » ( سند میں ابواسحاق مدلس و مختلط راوی ہیں ، اور روایت عنعنہ سے کی ہے ، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث حسن ہے ، ملاحظہ ہو : الإرواء : 5/ 314- 315 تحت رقم : 91 14 )

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´ایک ڈول پانی کھینچنے پر ایک عمدہ کھجور لینے کی شرط لگانے کا بیان۔`
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک کھجور کے بدلے ایک ڈول پانی نکالتا تھا، اور یہ شرط لگا لیتا تھا کہ وہ کھجور خشک اور عمدہ ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2447]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کوہمارے فاضل محقق نےسنداً ضعیف قرار دیا ہےجبکہ بعض محققین نے اسے حسن قرار دیا ہے بنا بریں کام شروع کرنے سے پہلے اجرت کا تعین کرلینا چاہیے۔
تفصیل کےلیے دیکھیے (الأرواء للألبانی: 5؍313، 315)

(2)
مزدوری کے کام یا اس کی اجرت کے بارے میں مناسب شرطیں مقرر کر لینا جائز ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2447 سے ماخوذ ہے۔