حدیث نمبر: 2444
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَنْ مَسْلَمَةَ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عُلَيِّ بْنِ رَبَاحٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُتْبَةَ بْنَ النُّدَّرِ ، يَقُولُ : كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَ طسم حَتَّى إِذَا بَلَغَ قِصَّةَ مُوسَى قَالَ : " إِنَّ مُوسَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آجَرَ نَفْسَهُ ثَمَانِيَ سِنِينَ أَوْ عَشْرًا عَلَى عِفَّةِ فَرْجِهِ وَطَعَامِ بَطْنِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عتبہ بن ندر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے تو آپ نے سورۃ «طسم» پڑھی ، جب موسیٰ علیہ السلام کے واقعہ پر پہنچے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” موسیٰ علیہ السلام نے اپنے آپ کو عفت و پاک دامنی اور خوراک کے عوض آٹھ یا دس سال تک مزدور بنایا “ ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: یہ حدیث ضعیف ہے، اور یہ معلوم ہے کہ جب موسی علیہ السلام مصر سے بھاگ کر مدین میں پہنچے تو وہاں شعیب علیہ السلام کے نوکر ہوئے، اقرار یہ تھا کہ آٹھ یا دس برس تک عفت کے ساتھ ان کی خدمت کریں اور کھانا پیٹ بھر کھائیں، مدت کے بعد ایک بیٹی کا نکاح ان سے کر دیا جائے یہ قصہ قرآن شریف میں تفصیل سے مذکور ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الرهون / حدیث: 2444
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف جدا , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف جدًا, مسلمة بن علي:متروك, والسند ضعفه البوصيري, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 467
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 9759 ، ومصباح الزجاجة : 861 ) ( ضعیف جدا ) » ( بقیہ مدلس ہیں ، اور روایت عنعنہ سے کی ہے ، اور مسلمہ بن علی منکرالحدیث ہے ، ملاحظہ ہو : الإرواء : 1488 )

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´صرف خوراکی پر مزدور رکھنے کا بیان۔`
عتبہ بن ندر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے تو آپ نے سورۃ «طسم» پڑھی، جب موسیٰ علیہ السلام کے واقعہ پر پہنچے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: موسیٰ علیہ السلام نے اپنے آپ کو عفت و پاک دامنی اور خوراک کے عوض آٹھ یا دس سال تک مزدور بنایا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2444]
اردو حاشہ:
فائدہ: پاک وامنی کی شرط سےمراد نکاح کاوعدہ ہےجیسا کہ قرآن مجید میں مذکورہ ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2444 سے ماخوذ ہے۔