حدیث نمبر: 2435
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمُحَارِبِيُّ ، وأبو أسامة ، وجعفر بن عون ، عَنِ ابْنِ أَنْعُمٍ ، قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ : وَحَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ ابْنِ أَنْعُمٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ عَبْدٍ الْمَعَافِرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الدَّيْنَ يُقْضَى مِنْ صَاحِبِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِذَا مَاتَ إِلَّا مَنْ يَدِينُ فِي ثَلَاثِ خِلَالٍ : الرَّجُلُ تَضْعُفُ قُوَّتُهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيَسْتَدِينُ يَتَقَوَّى بِهِ لِعَدُوِّ اللَّهِ وَعَدُوِّهِ ، وَرَجُلٌ يَمُوتُ عِنْدَهُ مُسْلِمٌ ، لَا يَجِدُ مَا يُكَفِّنُهُ وَيُوَارِيهِ إِلَّا بِدَيْنٍ ، وَرَجُلٌ خَافَ اللَّهَ عَلَى نَفْسِهِ الْعُزْبَةَ ، فَيَنْكِحُ خَشْيَةً عَلَى دِينِهِ فَإِنَّ اللَّهَ يَقْضِي عَنْ هَؤُلَاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قرض دار جب مقروض مر جائے تو قیامت کے دن اس کے قرض کی ادائیگی اس سے ضرور کرائی جائے گی سوائے اس کے کہ اس نے تین باتوں میں سے کسی کے لیے قرض لیا ہو ، ایک وہ جس کی طاقت جہاد میں کمزور پڑ جائے تو وہ قرض لے کر اپنی طاقت بڑھائے تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے اور اپنے دشمن سے جہاد کے قابل ہو جائے ، دوسرا وہ شخص جس کے پاس کوئی مسلمان مر جائے اور اس کے پاس اس کے کفن دفن کے لیے سوائے قرض کے کوئی چارہ نہ ہو ، تیسرا وہ شخص ، جو تجرد ( بغیر شادی کے رہنے ) سے اپنے نفس پر ڈرے ، اور اپنے دین کو مبتلائے آفت ہونے کے اندیشے سے قرض لے کر نکاح کرے ، تو اللہ تعالیٰ ان تینوں کا قرض قیامت کے دن ادا کر دے گا “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الصدقات / حدیث: 2435
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ابن أنعم الإفريقي: ضعيف, وشيخه عمران المعافري: ضعيف (تقريب: 5160) والسند ضعفه البوصيري, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 466
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 8904 ، ومصباح الزجاجة : 857 ) ( ضعیف ) » ( سند میں رشدین ضعیف ہیں لیکن ان کی متابعت کئی راویوں نے کی ہے ، اور ابن انعم عبد الرحمن بن زیاد افریقی ضعیف ہیں ، ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الضعیفة ، للالبانی : 5483 )