حدیث نمبر: 2431
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ ، وَحَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رَأَيْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي عَلَى بَاب : الْجَنَّةِ مَكْتُوبًا الصَّدَقَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا ، وَالْقَرْضُ بِثَمَانِيَةَ عَشَرَ ، فَقُلْتُ : يَا جِبْرِيلُ مَا بَالُ الْقَرْضِ أَفْضَلُ مِنَ الصَّدَقَةِ " ، قَالَ : لِأَنَّ السَّائِلَ يَسْأَلُ وَعِنْدَهُ ، وَالْمُسْتَقْرِضُ لَا يَسْتَقْرِضُ إِلَّا مِنْ حَاجَةٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” معراج کی رات میں نے جنت کے دروازے پر لکھا دیکھا کہ صدقہ کا ثواب دس گنا ہے ، اور قرض کا اٹھارہ گنا ، میں نے کہا : جبرائیل ! کیا بات ہے ؟ قرض صدقہ سے افضل کیسے ہے ؟ تو کہا : اس لیے کہ سائل سوال کرتا ہے حالانکہ اس کے پاس کھانے کو ہوتا ہے ، اور قرض لینے والا قرض اس وقت تک نہیں مانگتا جب تک اس کو واقعی ضرورت نہ ہو “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الصدقات / حدیث: 2431
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف جدا , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف جدًا, خالد بن يزيد: ضعيف, ولبعض حديثه شاهد ضعيف عند الطبراني (297/8 ح 7976), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 466
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 1703 ، ومصباح الزجاجة : 854 ) ( ضعیف جدا ) » ( خالد بن یزید متروک ہے ، یحییٰ بن معین نے تکذیب کی ہے ، نیز ملاحظہ ہو : 3637 )