حدیث نمبر: 2418
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ نُفَيْعٍ أَبِي دَاوُدَ ، عَنْ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا كَانَ لَهُ بِكُلِّ يَوْمٍ صَدَقَةٌ وَمَنْ أَنْظَرَهُ بَعْدَ حِلِّهِ كَانَ لَهُ مِثْلُهُ فِي كُلِّ يَوْمٍ صَدَقَةٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو کسی تنگ دست کو مہلت دے گا تو اس کو ہر دن کے حساب سے ایک صدقہ کا ثواب ملے گا ، اور جو کسی تنگ دست کو میعاد گزر جانے کے بعد مہلت دے گا تو اس کو ہر دن کے حساب سے اس کے قرض کے صدقہ کا ثواب ملے گا “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الصدقات / حدیث: 2418
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 2012 ، ومصباح الزجاجة : 848 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 5/351 ، 360 ) ( صحیح ) » ( سند میں ابوداود نفیع بن الحارث ضعیف راوی ہیں ، لیکن حدیث دوسرے طرق و شواہد سے صحیح ہے ، ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الصحیحة ، للالبانی : 86 )

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´محتاج قرض دار کو قرض کی ادائیگی میں مہلت دینے کا بیان۔`
بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی تنگ دست کو مہلت دے گا تو اس کو ہر دن کے حساب سے ایک صدقہ کا ثواب ملے گا، اور جو کسی تنگ دست کو میعاد گزر جانے کے بعد مہلت دے گا تو اس کو ہر دن کے حساب سے اس کے قرض کے صدقہ کا ثواب ملے گا۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الصدقات/حدیث: 2418]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مہلت دینے کا مطلب یہ ہے کہ قرض دیتے وقت مناسب مدت کا تعین کیا جس میں مقروض آسانی سے قرض ادا کرسکے۔

(2)
مقررہ مدت ختم ہونے کےبعد سختی سے مطالبہ کرنے کی بجائےمزید مہلت دے دینا مزید ثواب کا باعث ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2418 سے ماخوذ ہے۔