سنن ابن ماجه
كتاب الصدقات— کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
بَابُ : مَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا فَعَلَى اللَّهِ وَعَلَى رَسُولِهِ باب: جو قرض یا بےسہارا اولاد چھوڑ جائے تو وہ اللہ اور اس کے رسول کے ذمے ہیں۔
حدیث نمبر: 2416
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ ، وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا فَعَلَيَّ وَإِلَيَّ وَأَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو مال چھوڑ جائے تو وہ اس کے وارثوں کا ہے ، اور جو قرض یا بال بچے چھوڑ جائے تو اس کے قرض کی ادائیگی اور اس کے بال بچوں کا خرچ مجھ پر ہے ، اور ان کا معاملہ میرے سپرد ہے ، اور میں مومنوں کے زیادہ قریب ہوں “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´جو قرض یا بےسہارا اولاد چھوڑ جائے تو وہ اللہ اور اس کے رسول کے ذمے ہیں۔`
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو مال چھوڑ جائے تو وہ اس کے وارثوں کا ہے، اور جو قرض یا بال بچے چھوڑ جائے تو اس کے قرض کی ادائیگی اور اس کے بال بچوں کا خرچ مجھ پر ہے، اور ان کا معاملہ میرے سپرد ہے، اور میں مومنوں کے زیادہ قریب ہوں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصدقات/حدیث: 2416]
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو مال چھوڑ جائے تو وہ اس کے وارثوں کا ہے، اور جو قرض یا بال بچے چھوڑ جائے تو اس کے قرض کی ادائیگی اور اس کے بال بچوں کا خرچ مجھ پر ہے، اور ان کا معاملہ میرے سپرد ہے، اور میں مومنوں کے زیادہ قریب ہوں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصدقات/حدیث: 2416]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1) (ضیاعاً)
سےمراد وہ افراد ہیں جنھیں اپنی ضروریات پوری کرنے کےلیے نگہداشت کی ضرورت ہوتی ہے مثلاً: چھوٹے بچے، بوڑھے اورمعذور افراد جواپنی روزی کا بندوبست نہیں کرسکتے۔
(2)
اسلامی ریاست ایک فلاحی ریاست ہوتی ہے جس میں غریب اورنادار افراد کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔
(3)
نبی ﷺ کا امت سے جو تعلق ہے وہ دوسرے تمام تعلقات سے زیادہ قوی، اہم اورعظیم ہے۔
جس طرح امت کے ہرفرد پر نبیﷺ سےمحبت، آپ کا احترام اورآپ کی اطاعت فرض ہے اسی طرح نبی ﷺ بھی امت کے ہرفرد کا خیال رکھتے تھے۔
اب یہ فرض مسلمان حکمرانوں پرعائد ہوتا ہے کہ وہ اپنی ذاتی ضروریات اورمنافع پرعوام خصوصاً مستحق افراد کےفائدے اورضروریات کوترجیح دیں۔
فوائد و مسائل:
(1) (ضیاعاً)
سےمراد وہ افراد ہیں جنھیں اپنی ضروریات پوری کرنے کےلیے نگہداشت کی ضرورت ہوتی ہے مثلاً: چھوٹے بچے، بوڑھے اورمعذور افراد جواپنی روزی کا بندوبست نہیں کرسکتے۔
(2)
اسلامی ریاست ایک فلاحی ریاست ہوتی ہے جس میں غریب اورنادار افراد کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔
(3)
نبی ﷺ کا امت سے جو تعلق ہے وہ دوسرے تمام تعلقات سے زیادہ قوی، اہم اورعظیم ہے۔
جس طرح امت کے ہرفرد پر نبیﷺ سےمحبت، آپ کا احترام اورآپ کی اطاعت فرض ہے اسی طرح نبی ﷺ بھی امت کے ہرفرد کا خیال رکھتے تھے۔
اب یہ فرض مسلمان حکمرانوں پرعائد ہوتا ہے کہ وہ اپنی ذاتی ضروریات اورمنافع پرعوام خصوصاً مستحق افراد کےفائدے اورضروریات کوترجیح دیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2416 سے ماخوذ ہے۔