سنن ابن ماجه
كتاب الصدقات— کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
بَابُ : مَنِ ادَّانَ دَيْنًا لَمْ يَنْوِ قَضَاءَهُ باب: جس شخص نے قرض اس نیت سے لیا کہ اسے واپس نہیں لوٹانا ہے اس کی شناعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2410
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَيْفِيِّ بْنِ صُهَيْبِ الْخَيْرِ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ زِيَادِ بْنِ صَيْفِيِّ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا صُهَيْبُ الْخَيْرِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَيُّمَا رَجُلٍ يَدِينُ دَيْنًا وَهُوَ مُجْمِعٌ أَنْ لَا يُوَفِّيَهُ إِيَّاهُ لَقِيَ اللَّهَ سَارِقًا ".
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´صہیب الخیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو قرض لے اور اس کو ادا کرنے کی نیت نہ رکھتا ہو ، تو وہ اللہ تعالیٰ سے چور ہو کر ملے گا “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´جس شخص نے قرض اس نیت سے لیا کہ اسے واپس نہیں لوٹانا ہے اس کی شناعت کا بیان۔`
صہیب الخیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جو قرض لے اور اس کو ادا کرنے کی نیت نہ رکھتا ہو، تو وہ اللہ تعالیٰ سے چور ہو کر ملے گا۔" [سنن ابن ماجه/كتاب الصدقات/حدیث: 2410]
صہیب الخیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جو قرض لے اور اس کو ادا کرنے کی نیت نہ رکھتا ہو، تو وہ اللہ تعالیٰ سے چور ہو کر ملے گا۔" [سنن ابن ماجه/كتاب الصدقات/حدیث: 2410]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
جو شخص قرض لیتا ہے اورادائیگی میں ٹال مٹول کرتا ہے اوراس کا مقصد ہوتا ہے کہ واپس نہ کرے، ایسا شخص قانونی طورپر چور قرار نہیں دیا جا سکتا، اس لیے اسے قیامت کو سزا ملے گی۔
(2)
اللہ تعالی دلوں کےحالات جانتا ہے اس لیے مسلمان کوچاہیے کہ کسی کو دھوکا نہ دے۔
انسان کودھوکا دینا ممکن ہے لیکن اللہ تعالی کو دھوکا نہیں دیا جا سکتا۔
فوائد و مسائل:
(1)
جو شخص قرض لیتا ہے اورادائیگی میں ٹال مٹول کرتا ہے اوراس کا مقصد ہوتا ہے کہ واپس نہ کرے، ایسا شخص قانونی طورپر چور قرار نہیں دیا جا سکتا، اس لیے اسے قیامت کو سزا ملے گی۔
(2)
اللہ تعالی دلوں کےحالات جانتا ہے اس لیے مسلمان کوچاہیے کہ کسی کو دھوکا نہ دے۔
انسان کودھوکا دینا ممکن ہے لیکن اللہ تعالی کو دھوکا نہیں دیا جا سکتا۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2410 سے ماخوذ ہے۔