سنن ابن ماجه
كتاب الصدقات— کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
بَابُ : الْكَفَالَةِ باب: ضمانت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2405
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " الزَّعِيمُ غَارِمٌ وَالدَّيْنُ مَقْضِيٌّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ( قرض کا ) ضامن و کفیل ( اس کی ادائیگی کا ) ذمہ دار ہے ، اور قرض کی ادائیگی انتہائی ضروری ہے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´ضمانت کا بیان۔`
ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: (قرض کا) ضامن و کفیل (اس کی ادائیگی کا) ذمہ دار ہے، اور قرض کی ادائیگی انتہائی ضروری ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصدقات/حدیث: 2405]
ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: (قرض کا) ضامن و کفیل (اس کی ادائیگی کا) ذمہ دار ہے، اور قرض کی ادائیگی انتہائی ضروری ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصدقات/حدیث: 2405]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اگرایک شخص دوسرے کی ضمانت دے کہ وہ یہ قرض ادا کر دے گا اوروه مطالبے پر یا مقررہ وقت پر ادا نہ کرے تو ضامن کو چاہیے کہ اپنے پاس سےقرض خواہ کو قرض ادا کر دے، بعد میں مقروض سے وصول کرلے۔
(2)
قرض ادا کرنا ہرحال میں ضروری ہے حتی کہ اگر مقروض فوت ہو جائے تو اس کے ترکے میں سےقرض ادا کیا جائے گا۔
اگر ترکے سےقرض ادا نہ ہو سکےتواس کےوارث ادا کریں گے۔
(3)
تاوان کا مطلب یہ ہے کہ اگرمقروض قرض نہ دے تو ضامن اپنے پاس سےرقم دے کریہ ذمے داری پوری کرے۔
فوائد و مسائل:
(1)
اگرایک شخص دوسرے کی ضمانت دے کہ وہ یہ قرض ادا کر دے گا اوروه مطالبے پر یا مقررہ وقت پر ادا نہ کرے تو ضامن کو چاہیے کہ اپنے پاس سےقرض خواہ کو قرض ادا کر دے، بعد میں مقروض سے وصول کرلے۔
(2)
قرض ادا کرنا ہرحال میں ضروری ہے حتی کہ اگر مقروض فوت ہو جائے تو اس کے ترکے میں سےقرض ادا کیا جائے گا۔
اگر ترکے سےقرض ادا نہ ہو سکےتواس کےوارث ادا کریں گے۔
(3)
تاوان کا مطلب یہ ہے کہ اگرمقروض قرض نہ دے تو ضامن اپنے پاس سےرقم دے کریہ ذمے داری پوری کرے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2405 سے ماخوذ ہے۔