سنن ابن ماجه
كتاب الصدقات— کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
بَابُ : الْوَدِيعَةِ باب: امانت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2401
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَهْمِ الْأَنْمَاطِيُّ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ ، عَنِ الْمُثَنَّى ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أُودِعَ وَدِيعَةً فَلَا ضَمَانَ عَلَيْهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس کے پاس کوئی امانت رکھی گئی تو اس پر تاوان نہیں ہے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اگر وہ بغیر اس کی کسی کوتاہی یا خیانت کے برباد ہو جائے تو اس پر کوئی تاوان نہیں ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´امانت کا بیان۔`
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس کے پاس کوئی امانت رکھی گئی تو اس پر تاوان نہیں ہے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصدقات/حدیث: 2401]
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس کے پاس کوئی امانت رکھی گئی تو اس پر تاوان نہیں ہے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصدقات/حدیث: 2401]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
کسی کو جو چیز حفاظت کےلیے دی جاتی ہے اسے ودیعۃ کہتےہیں۔
(2)
کسی کی امانت کی حفاظت کرنا اور جان بوجھ کر اس میں خیانت نہ کرنا مومنوں کی صفت ہے۔
(3)
اگر امانت سنبھالنے والےکی غفلت کی وجہ سے چیز ضائع ہوجائے تواس کا بدل ادا کرنا چاہیے اور اگر اس کے ضائع ہونے میں اس کی غفلت کا دخل نہ ہوتو وہ ذمہ دار نہیں ہو گا۔
(4)
مذکورہ روایت کوبعض محققین نے حسن قرار دیا ہے۔
مزید دیکھیے: (الإرواء، رقم: 1547، والصحیحة رقم: 2315)
فوائد و مسائل:
(1)
کسی کو جو چیز حفاظت کےلیے دی جاتی ہے اسے ودیعۃ کہتےہیں۔
(2)
کسی کی امانت کی حفاظت کرنا اور جان بوجھ کر اس میں خیانت نہ کرنا مومنوں کی صفت ہے۔
(3)
اگر امانت سنبھالنے والےکی غفلت کی وجہ سے چیز ضائع ہوجائے تواس کا بدل ادا کرنا چاہیے اور اگر اس کے ضائع ہونے میں اس کی غفلت کا دخل نہ ہوتو وہ ذمہ دار نہیں ہو گا۔
(4)
مذکورہ روایت کوبعض محققین نے حسن قرار دیا ہے۔
مزید دیکھیے: (الإرواء، رقم: 1547، والصحیحة رقم: 2315)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2401 سے ماخوذ ہے۔