سنن ابن ماجه
كتاب الصدقات— کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
بَابُ : الْعَارِيَةِ باب: عاریت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2400
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُسْتَمِرِّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ جَمِيعًا ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " عَلَى الْيَدِ مَا أَخَذَتْ حَتَّى تُؤَدِّيَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاتھ پر واجب ہے کہ جو وہ لے اسے واپس کرے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´عاریت کا بیان۔`
سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ہاتھ پر واجب ہے کہ جو وہ لے اسے واپس کرے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصدقات/حدیث: 2400]
سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ہاتھ پر واجب ہے کہ جو وہ لے اسے واپس کرے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصدقات/حدیث: 2400]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہےلیکن یہ بات حق ہے کہ قرض امانت اورعاریتاً لی ہوئی چیز کی واپسی فرض ہے، اس کے دلائل قرآن مجید اوردیگر صحیح احادیث میں موجود ہیں مثلاً: ارشاد باری تعالٰی ہے۔
: ﴿وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِاَمٰنٰتِھِمْ وَعَھْدِھِمْ رَاعُوْنَ﴾ (المومنون 74: 8)
’’اور جولوگ اپنی امانتوں اوروعدوں کاخیال رکھتےہیں۔‘‘ (وہی مومن کامیاب ہیں۔)
اوردیکھیے(سنن ابن ماجة، حدیث: 2401)
فوائد و مسائل:
مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہےلیکن یہ بات حق ہے کہ قرض امانت اورعاریتاً لی ہوئی چیز کی واپسی فرض ہے، اس کے دلائل قرآن مجید اوردیگر صحیح احادیث میں موجود ہیں مثلاً: ارشاد باری تعالٰی ہے۔
: ﴿وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِاَمٰنٰتِھِمْ وَعَھْدِھِمْ رَاعُوْنَ﴾ (المومنون 74: 8)
’’اور جولوگ اپنی امانتوں اوروعدوں کاخیال رکھتےہیں۔‘‘ (وہی مومن کامیاب ہیں۔)
اوردیکھیے(سنن ابن ماجة، حدیث: 2401)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2400 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1266 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´عاریت لی ہوئی چیز کو واپس کرنے کا بیان۔`
سمرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو کچھ ہاتھ نے لیا ہے جب تک وہ اسے ادا نہ کر دے اس کے ذمہ ہے “ ۱؎، قتادہ کہتے ہیں: پھر حسن بصری اس حدیث کو بھول گئے اور کہنے لگے ” جس نے عاریت لی ہے “ وہ تیرا امین ہے، اس پر تاوان نہیں ہے، یعنی عاریت لی ہوئی چیز تلف ہونے پر تاوان نہیں ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب البيوع/حدیث: 1266]
سمرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو کچھ ہاتھ نے لیا ہے جب تک وہ اسے ادا نہ کر دے اس کے ذمہ ہے “ ۱؎، قتادہ کہتے ہیں: پھر حسن بصری اس حدیث کو بھول گئے اور کہنے لگے ” جس نے عاریت لی ہے “ وہ تیرا امین ہے، اس پر تاوان نہیں ہے، یعنی عاریت لی ہوئی چیز تلف ہونے پر تاوان نہیں ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب البيوع/حدیث: 1266]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس حدیث سے معلوم ہواکہ عاریت لی ہوئی چیز جب تک واپس نہ کر دے عاریت لینے والے پر واجب الاداء رہتی ہے، عاریت لی ہوئی چیزکی ضمانت عاریت لینے والے پر ہے یا نہیں، اس بارے میں تین اقوال ہیں: پہلا قول یہ ہے کہ ہرصورت میں وہ اس کا ضامن ہے خواہ اس نے ضمانت کی شرط کی ہو یا نہ کی ہو، ابن عباس، زیدبن علی، عطاء، احمد، اسحاق اورامام شافعی رحمہم اللہ کی یہی رائے ہے، دوسرا قول یہ ہے کہ اگر ضمانت کی شرط نہ کی ہوگی تو اس کی ذمہ داری اس پرعائد نہ ہوگی، تیسرا قول یہ ہے کہ شرط کے باوجود بھی ضمانت کی شرط نہیں بشرطیکہ خیانت نہ کر ے اس حدیث سے پہلے قول کی تائید ہوتی ہے۔
نوٹ:
(قتادہ اور حسن بصری دونوں مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے، اس لیے یہ سند ضعیف ہے)
وضاحت:
1؎:
اس حدیث سے معلوم ہواکہ عاریت لی ہوئی چیز جب تک واپس نہ کر دے عاریت لینے والے پر واجب الاداء رہتی ہے، عاریت لی ہوئی چیزکی ضمانت عاریت لینے والے پر ہے یا نہیں، اس بارے میں تین اقوال ہیں: پہلا قول یہ ہے کہ ہرصورت میں وہ اس کا ضامن ہے خواہ اس نے ضمانت کی شرط کی ہو یا نہ کی ہو، ابن عباس، زیدبن علی، عطاء، احمد، اسحاق اورامام شافعی رحمہم اللہ کی یہی رائے ہے، دوسرا قول یہ ہے کہ اگر ضمانت کی شرط نہ کی ہوگی تو اس کی ذمہ داری اس پرعائد نہ ہوگی، تیسرا قول یہ ہے کہ شرط کے باوجود بھی ضمانت کی شرط نہیں بشرطیکہ خیانت نہ کر ے اس حدیث سے پہلے قول کی تائید ہوتی ہے۔
نوٹ:
(قتادہ اور حسن بصری دونوں مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے، اس لیے یہ سند ضعیف ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1266 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3561 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´مانگی ہوئی چیز ضائع اور برباد ہو جائے تو ضامن کون ہو گا؟`
سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” لینے والے ہاتھ کی ذمہ داری ہے کہ جو لیا ہے اسے واپس کرے “ پھر حسن بھول گئے اور یہ کہنے لگے کہ جس کو تو مانگنے پر چیز دے تو وہ تمہاری طرف سے اس چیز کا امین ہے (اگر وہ چیز خود سے ضائع ہو جائے تو اس پر کوئی تاوان (معاوضہ و بدلہ) نہ ہو گا۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3561]
سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” لینے والے ہاتھ کی ذمہ داری ہے کہ جو لیا ہے اسے واپس کرے “ پھر حسن بھول گئے اور یہ کہنے لگے کہ جس کو تو مانگنے پر چیز دے تو وہ تمہاری طرف سے اس چیز کا امین ہے (اگر وہ چیز خود سے ضائع ہو جائے تو اس پر کوئی تاوان (معاوضہ و بدلہ) نہ ہو گا۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3561]
فوائد ومسائل:
فائدہ: یہ روایت سندا ضعیف ہے۔
اور حق یہ ہے کہ عاریتاً لی ہوئی کوئی چیز ہوجانے پر اس کی ضمان دینی ہوگی۔
فائدہ: یہ روایت سندا ضعیف ہے۔
اور حق یہ ہے کہ عاریتاً لی ہوئی کوئی چیز ہوجانے پر اس کی ضمان دینی ہوگی۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3561 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 751 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´ادھار لی ہوئی چیز کا بیان`
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جو کچھ ہاتھ نے لیا ہے جب تک اسے ادا نہ کر دے اس کے ذمہ ہے۔ “ اسے احمد اور چاروں نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 751»
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جو کچھ ہاتھ نے لیا ہے جب تک اسے ادا نہ کر دے اس کے ذمہ ہے۔ “ اسے احمد اور چاروں نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 751»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، البيوع، باب في تضمين العارية، حديث:3561، والترمذي، البيوع، حديث:1266، وابن ماجه، الصدقات، حديث:2400، وأحمد:5 /8، 13، والنسائي في الكبرٰي:3 /411، حديث:5783.* قتادة عنعن.»
تشریح: 1. مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے‘ لیکن یہ بات حق ہے کہ قرض‘ امانت اور عاریتاً لی ہوئی چیز کی واپسی فرض ہے‘ اس کے دلائل قرآن مجید اور دیگر صحیح احادیث میں موجود ہیں‘ مثلاً: ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿ وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِاَمٰنٰتِھِمْ وَعَھْدِھِمْ رَاعُوْنَ ﴾ (المؤمنون۲۳:۸) ’’اور جو لوگ اپنی امانتوں اور وعدوں کا خیال رکھتے ہیں (وہی مومن کامیاب ہیں۔
‘‘) 2. ادھار لی ہوئی چیز کی ضمانت و ذمہ داری کس پر ہے؟ عاریتاً لینے والے پر ہے یا نہیں؟ اس کے بارے میں تین قول ہیں: پہلا قول تو یہ ہے کہ بہرصورت اس کی ضمانت و ذمہ داری عاریتاً لینے والے پر ہے‘ خواہ اس کی شرط کی ہو یا نہ کی ہو۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ‘ زید بن علی‘ عطاء‘ احمد‘ اسحاق اور امام شافعی رحمہم اللہ کی یہی رائے ہے۔
دوسرا قول یہ ہے کہ اگر ضمانت و ذمہ داری کی شرط نہ کی ہوگی تو وہ اس کا ضامن نہیں ہو گا جیسا کہ آگے حضرت یعلیٰ رضی اللہ عنہ کی روایت میں آرہا ہے۔
تیسرا قول یہ ہے کہ شرط کے باوجود بھی وہ ضامن نہیں ہو گا بشرطیکہ خیانت نہ کرے۔
«أخرجه أبوداود، البيوع، باب في تضمين العارية، حديث:3561، والترمذي، البيوع، حديث:1266، وابن ماجه، الصدقات، حديث:2400، وأحمد:5 /8، 13، والنسائي في الكبرٰي:3 /411، حديث:5783.* قتادة عنعن.»
تشریح: 1. مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے‘ لیکن یہ بات حق ہے کہ قرض‘ امانت اور عاریتاً لی ہوئی چیز کی واپسی فرض ہے‘ اس کے دلائل قرآن مجید اور دیگر صحیح احادیث میں موجود ہیں‘ مثلاً: ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿ وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِاَمٰنٰتِھِمْ وَعَھْدِھِمْ رَاعُوْنَ ﴾ (المؤمنون۲۳:۸) ’’اور جو لوگ اپنی امانتوں اور وعدوں کا خیال رکھتے ہیں (وہی مومن کامیاب ہیں۔
‘‘) 2. ادھار لی ہوئی چیز کی ضمانت و ذمہ داری کس پر ہے؟ عاریتاً لینے والے پر ہے یا نہیں؟ اس کے بارے میں تین قول ہیں: پہلا قول تو یہ ہے کہ بہرصورت اس کی ضمانت و ذمہ داری عاریتاً لینے والے پر ہے‘ خواہ اس کی شرط کی ہو یا نہ کی ہو۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ‘ زید بن علی‘ عطاء‘ احمد‘ اسحاق اور امام شافعی رحمہم اللہ کی یہی رائے ہے۔
دوسرا قول یہ ہے کہ اگر ضمانت و ذمہ داری کی شرط نہ کی ہوگی تو وہ اس کا ضامن نہیں ہو گا جیسا کہ آگے حضرت یعلیٰ رضی اللہ عنہ کی روایت میں آرہا ہے۔
تیسرا قول یہ ہے کہ شرط کے باوجود بھی وہ ضامن نہیں ہو گا بشرطیکہ خیانت نہ کرے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 751 سے ماخوذ ہے۔