حدیث نمبر: 240
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ ّالنَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ عَلَّمَ عِلْمًا فَلَهُ أَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِهِ لَا يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِ الْعَامِلِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے کسی کو علم دین سکھایا ، تو اس کو اتنا ثواب ملے گا جتنا کہ اس شخص کو جو اس پر عمل کرے ، اور عمل کرنے والے کے ثواب سے کوئی کمی نہ ہو گی “ ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: اس حدیث میں بڑی فضیلت ہے ان علماء کی جو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر (یعنی بھلی باتوں کا حکم دینا اور بری باتوں سے روکنے) کی تعلیم دیتے ہیں، یا درس و تدریس سے علوم دینیہ پھیلاتے ہیں، یا تقریر و تحریر سے علوم قرآن و حدیث نشر کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / (أبواب كتاب السنة) / حدیث: 240
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, عبد اللّٰه بن وھب مدلس و عنعن, و الحديث السابق (الأصل: 206) يغني عنه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 383
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 11304 ، ومصباح الزجاجة : 94 ) ( حسن ) » ( یحییٰ بن ایوب نے سہل بن معاذ کو نہیں پایا ، امام مزی نے ابن وہب عن یحییٰ بن ایوب عن زبان بن فائد عن سہل بن معاذ بن انس عن أبیہ کی سند ذکر کی ہے ، حافظ ابن حجر نے سہل بن معاذ کے بارے میں فرمایا کہ «لا بأس به إلا في روايات زبان عنه» ، لیکن شواہد کی بنا ء پر یہ حدیث حسن ہے ، ملاحظہ ہو : باب نمبر : 14 ، حدیث نمبر : 203- 207 )

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´لوگوں کو خیر و بھلائی سکھانے والے کا ثواب۔`
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی کو علم دین سکھایا، تو اس کو اتنا ثواب ملے گا جتنا کہ اس شخص کو جو اس پر عمل کرے، اور عمل کرنے والے کے ثواب سے کوئی کمی نہ ہو گی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 240]
اردو حاشہ:
اس کی وجہ یہ ہے کہ علم سکھانا بھی ایک طرح کی تبلیغ ہے اور نیکی کی دعوت دینے والے کے لیے مذکورہ ثواب حدیث نمبر: 205 اور 206 میں بیان ہو چکا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 240 سے ماخوذ ہے۔