سنن ابن ماجه
كتاب الصدقات— کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
بَابُ : مَنْ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ ثُمَّ وَرِثَهَا باب: صدقہ کئے ہوئے مال کے وارث ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2395
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنِّي أَعْطَيْتُ أُمِّي حَدِيقَةً لِي وَإِنَّهَا مَاتَتْ وَلَمْ تَتْرُكْ وَارِثًا غَيْرِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَجَبَتْ صَدَقَتُكَ وَرَجَعَتْ إِلَيْكَ حَدِيقَتُكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور عرض کیا : میں نے اپنی ماں کو ایک باغ دیا تھا ، اور وہ مر گئیں ، اور میرے سوا ان کا کوئی اور وارث نہیں ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہیں تمہارے صدقہ کا ثواب مل گیا ، اور تمہارا باغ بھی تمہیں واپس مل گیا “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´صدقہ کئے ہوئے مال کے وارث ہونے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور عرض کیا: میں نے اپنی ماں کو ایک باغ دیا تھا، اور وہ مر گئیں، اور میرے سوا ان کا کوئی اور وارث نہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " تمہیں تمہارے صدقہ کا ثواب مل گیا، اور تمہارا باغ بھی تمہیں واپس مل گیا۔" [سنن ابن ماجه/كتاب الصدقات/حدیث: 2395]
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور عرض کیا: میں نے اپنی ماں کو ایک باغ دیا تھا، اور وہ مر گئیں، اور میرے سوا ان کا کوئی اور وارث نہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " تمہیں تمہارے صدقہ کا ثواب مل گیا، اور تمہارا باغ بھی تمہیں واپس مل گیا۔" [سنن ابن ماجه/كتاب الصدقات/حدیث: 2395]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
ماں باپ کو صدقہ دیا جا سکتا ہے۔
(2)
ماں باپ کوصدقے میں دی ہوئی چیز اگر ترکہ بن کرصدقہ کرنے والے کومل جائے تو یہ صدقہ واپس لینے میں شامل نہیں کیونکہ وفات اوراستحقاق میراث میں انسان کےارادہ کوشش کو داخل نہیں۔
(3)
مندرجہ بالا صورت میں صدقے کا ثواب ختم نہیں ہوگا۔
فوائد و مسائل:
(1)
ماں باپ کو صدقہ دیا جا سکتا ہے۔
(2)
ماں باپ کوصدقے میں دی ہوئی چیز اگر ترکہ بن کرصدقہ کرنے والے کومل جائے تو یہ صدقہ واپس لینے میں شامل نہیں کیونکہ وفات اوراستحقاق میراث میں انسان کےارادہ کوشش کو داخل نہیں۔
(3)
مندرجہ بالا صورت میں صدقے کا ثواب ختم نہیں ہوگا۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2395 سے ماخوذ ہے۔