حدیث نمبر: 238
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ أَبُو جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ هَذَا الْخَيْرَ خَزَائِنُ ، وَلِتِلْكَ الْخَزَائِنِ مَفَاتِيحُ ، فَطُوبَى لِعَبْدٍ جَعَلَهُ اللَّهُ مِفْتَاحًا لِلْخَيْرِ مِغْلَاقًا لِلشَّرِّ ، وَوَيْلٌ لِعَبْدٍ جَعَلَهُ اللَّهُ مِفْتَاحًا لَلشَّرِّ مِغْلَاقًا لِلْخَيْرِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ خیر خزانے ہیں ، اور ان خزانوں کی کنجیاں بھی ہیں ، اس بندے کے لیے خوشخبری ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے خیر کی کنجی ، اور شر کا قفل بنا دیا ہو ، اور اس بندے کے لیے ہلاکت ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے شر کی کنجی ، اور خیر کا قفل بنایا ہو “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / (أبواب كتاب السنة) / حدیث: 238
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف جدا , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, عبد الرحمٰن بن زيد بن أسلم: ضعيف, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 383
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 4701 ، ومصباح الزجاجة : 93 ) ( حسن ) » ( تراجع الألبانی : رقم : 104 ، شواہد کی بناء پر یہ حدیث بھی حسن ہے ، ورنہ اس کی سند میں ''عبد الرحمن بن زید بن اسلم'' ضعیف ہیں )

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´خیر کی کنجی والی شخصیت کا بیان۔`
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ خیر خزانے ہیں، اور ان خزانوں کی کنجیاں بھی ہیں، اس بندے کے لیے خوشخبری ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے خیر کی کنجی، اور شر کا قفل بنا دیا ہو، اور اس بندے کے لیے ہلاکت ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے شر کی کنجی، اور خیر کا قفل بنایا ہو۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 238]
اردو حاشہ:
بعض محققین نے مذکورہ دونوں روایتوں کو حسن قرار دیا ہے، تفصیل کے لیے دیکھیے: (الصحيحة، حديث: 1332، وظلال الجنة، رقم: 289، 288)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 238 سے ماخوذ ہے۔