حدیث نمبر: 2353
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " الصُّلْحُ جَائِزٌ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ إِلَّا صُلْحًا حَرَّمَ حَلَالًا أَوْ أَحَلَّ حَرَامًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” مسلمانوں کے مابین صلح جائز ہے ، سوائے ایسی صلح کے جو حلال کو حرام کر دے یا حرام کو حلال “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی خلاف شرع صلح جائز نہیں، باقی جس میں شرع کی مخالفت نہ ہو وہ صلح ہر طرح سے جائز ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´صلح کا بیان۔`
عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ” مسلمانوں کے مابین صلح جائز ہے، سوائے ایسی صلح کے جو حلال کو حرام کر دے یا حرام کو حلال “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2353]
عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ” مسلمانوں کے مابین صلح جائز ہے، سوائے ایسی صلح کے جو حلال کو حرام کر دے یا حرام کو حلال “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2353]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
جب دو افراد یا گروہوں میں اختلاف ہو جائے تو اختلاف شدید نہ ہونے دیا جائے بلکہ جلد ازجلد صلح کرانے کی کوشش کی جائے۔
(2)
صلح کا یہ مطلب ہے کہ جھگڑا ختم کرنے کےلیے اپنے حق سے کم پر راضی ہو جائے۔
یہ بہت ثواب کا کام ہے۔
(3)
صلح میں ایسی شرط نہیں رکھی جا سکتی جو شریعت کے واضح حکم کے خلاف ہ۔
ایسی شرط رکھنا یا اس پر عمل کرنا حرام ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
جب دو افراد یا گروہوں میں اختلاف ہو جائے تو اختلاف شدید نہ ہونے دیا جائے بلکہ جلد ازجلد صلح کرانے کی کوشش کی جائے۔
(2)
صلح کا یہ مطلب ہے کہ جھگڑا ختم کرنے کےلیے اپنے حق سے کم پر راضی ہو جائے۔
یہ بہت ثواب کا کام ہے۔
(3)
صلح میں ایسی شرط نہیں رکھی جا سکتی جو شریعت کے واضح حکم کے خلاف ہ۔
ایسی شرط رکھنا یا اس پر عمل کرنا حرام ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2353 سے ماخوذ ہے۔