حدیث نمبر: 2352
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ عُثْمَانَ الْبَتِّيِّ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّ أَبَوَيْهِ اخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدُهُمَا كَافِرٌ وَالْآخَرُ مُسْلِمٌ ، فَخَيَّرَهُ فَتَوَجَّهَ إِلَى الْكَافِرِ فَقَالَ : " اللَّهُمَّ اهْدِهِ " . فَتَوَجَّهَ إِلَى الْمُسْلِمِ فَقَضَى لَهُ بِهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´رافع بن سنان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ان کے ماں اور باپ دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جھگڑا لے گئے ، ان میں سے ایک کافر تھے اور ایک مسلمان ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ( رافع ) کو اختیار دیا ( کہ جس کے ساتھ جانا چاہیں جا سکتے ہیں ) وہ کافر کی طرف متوجہ ہوئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی : ” اے اللہ ! اس کو ہدایت دے “ ، پھر وہ مسلمان کی طرف متوجہ ہوئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی ( مسلمان ) کے پاس ان کے رہنے کا فیصلہ فرما دیا ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الأحكام / حدیث: 2352
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث « حدیث عبد الحمید بن سلمة عن أبیہ عن جدہ ، علی أن إسم أبویہ لایعرفان تفرد بہ ابن ماجہ : ( تحفة الأشرا ف : 15586 ، مصباح الزجاجة : 852 ) ، وحدیث عبد الحمید بن سملة عن جدہ رافع بن سنان أخرجہ : سنن ابی داود/الطلاق 26 ( 2244 ) ، سنن النسائی/الطلاق 52 ( 3525 ) ، ( تحفة الأشراف : 3594 ) ( صحیح ) » ( سند میں عبدالحمید بن سلمہ عن أبیہ عن جدہ تینوں مجہول ہیں ، لیکن دوسرے طرق سے یہ صحیح ہے ، ملاحظہ ہو : صحیح أبی داود : 41 19 )

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´بچے کو اختیار دینا کہ ماں باپ میں سے جس کے پاس رہنا چاہے رہے۔`
رافع بن سنان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان کے ماں اور باپ دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جھگڑا لے گئے، ان میں سے ایک کافر تھے اور ایک مسلمان، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان (رافع) کو اختیار دیا (کہ جس کے ساتھ جانا چاہیں جا سکتے ہیں) وہ کافر کی طرف متوجہ ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: اے اللہ! اس کو ہدایت دے ، پھر وہ مسلمان کی طرف متوجہ ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی (مسلمان) کے پاس ان کے رہنے کا فیصلہ فرما دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2352]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
  مرد اور عورت میں سے اگر ایک مسلمان ہو جائے اور دوسرا کفر پر اصرار کرے تو ان کے درمیان جدائی ہو جاتی ہے۔
اور عورت کو حق حاصل ہو جاتا ہے کہ عدت گزار کر دوسرے مرد سے نکاح کرلے۔

(2)
اگر عورت دوسری جگہ نکاح کرنے کی بجائے خاوند کے مسلمان ہونے کا انتظار کرے تو جب وہ مسلمان ہوگا ان دونوں کے لیے دوبارہ ازدواجی تعلق قائم کرنا جائز ہو گا۔ دیکھیے: (سنن ابن ماجة، حدیث: 2009)

جب کسی وجہ سے مرد اور عورت میں جدائی ہو جائے یعنی طلاق ہو یا نکاح ٹوٹ جائے تو بچے کو اختیار دیا جائے وہ جس کے ساتھ چاہے رہے۔
یا قاضی معاملات کو دیکھ کر فیصلہ کرے کہ بچے کا فائدہ کس کے ساتھ رہنے میں ہے اس کے مطابق فیصلہ دے دے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2352 سے ماخوذ ہے۔