حدیث نمبر: 234
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، أَنْبَأَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ مُعَاوِيَةَ الْقُشَيْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا لِيُبَلِّغْ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ ؟ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´معاویہ قشیری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سنو ! حاضرین یہ باتیں ان تک پہنچا دیں جو یہاں نہیں ہیں “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / (أبواب كتاب السنة) / حدیث: 234
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 11393 ، ومصباح الزجاجة : 90 ) وقد أخرجہ : مسند احمد ( 4/31 ، 32 ) ( صحیح )ط ( اس کی سند حسن ہے ، لیکن شواہد کی بناء پر صحیح ہے ) ۔

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´علم دین کے مبلغ کے مناقب و فضائل۔`
معاویہ قشیری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو! حاضرین یہ باتیں ان تک پہنچا دیں جو یہاں نہیں ہیں۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 234]
اردو حاشہ:
غیر موجود میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو کسی دوسری جگہ پر موجود تھے، نبی علیہ السلام کا یہ ارشاد نہیں سن رہے تھے اور وہ لوگ بھی شامل ہیں جو اس زمانے میں موجود نہیں تھے، بعد میں پیدا ہوئے، صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے انہیں نبی علیہ السلام کےارشادات سنائے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 234 سے ماخوذ ہے۔