سنن ابن ماجه
كتاب الأحكام— کتاب: قضا کے احکام و مسائل
بَابُ : مَنْ سُرِقَ لَهُ شَيْءٌ فَوَجَدَهُ فِي يَدِ رَجُلٍ اشْتَرَاهُ باب: کسی آدمی کے یہاں چوری ہو گئی اور چوری کا مال کسی نے خرید لیا تو اس کا مال کا حقدار کون ہے؟
حدیث نمبر: 2331
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا ضَاعَ لِلرَّجُلِ مَتَاعٌ أَوْ سُرِقَ لَهُ مَتَاعٌ فَوَجَدَهُ فِي يَدِ رَجُلٍ يَبِيعُهُ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ وَيَرْجِعُ الْمُشْتَرِي عَلَى الْبَائِعِ بِالثَّمَنِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب آدمی کا کوئی سامان کھو جائے یا چوری ہو جائے ، پھر وہ کسی آدمی کو اسے بیچتے ہوئے پائے تو وہ اس کا زیادہ حقدار ہے ، اور جس نے خریدا وہ اس کے بیچنے والے سے قیمت واپس لے لے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی اصل مالک جس کا مال چوری ہو گیا تھا، وہ اس کا زیادہ حق دار ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3531 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´جو شخص اپنا مال کسی اور کے پاس پائے تو کیا کرے؟`
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص اپنا مال کسی اور کے پاس ہو بہو پائے تو وہی اس کا زیادہ حقدار ہے اور خریدار اس شخص کا پیچھا کرے جس نے اس کے ہاتھ بیچا ہے ۱؎۔“ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3531]
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص اپنا مال کسی اور کے پاس ہو بہو پائے تو وہی اس کا زیادہ حقدار ہے اور خریدار اس شخص کا پیچھا کرے جس نے اس کے ہاتھ بیچا ہے ۱؎۔“ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3531]
فوائد ومسائل:
فائدہ۔
کوئی غصب شدہ چوری شدہ یا گم شدہ مال اگر کسی کے پاس ملے۔
تو وہ اصل مالک کا حق ہے۔
یعنی خریدار تو وہ مالک اصل مالک کو دے دے۔
اور اپنا نقصان یعنی اس مال کی قیمت اس سے وصول کرے۔
جس سے اس نے خریدا تھا۔
فائدہ۔
کوئی غصب شدہ چوری شدہ یا گم شدہ مال اگر کسی کے پاس ملے۔
تو وہ اصل مالک کا حق ہے۔
یعنی خریدار تو وہ مالک اصل مالک کو دے دے۔
اور اپنا نقصان یعنی اس مال کی قیمت اس سے وصول کرے۔
جس سے اس نے خریدا تھا۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3531 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 4685 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´ایک شخص سامان بیچے پھر اس کا مالک کوئی اور نکلے۔`
سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” آدمی اپنے سامان کا زیادہ حقدار ہے جب کسی کے پاس پائے، اور بیچنے والا جس کے پاس چیز پائی گئی ہے وہ اپنے بیچنے والے کا پیچھا کرے۔“ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4685]
سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” آدمی اپنے سامان کا زیادہ حقدار ہے جب کسی کے پاس پائے، اور بیچنے والا جس کے پاس چیز پائی گئی ہے وہ اپنے بیچنے والے کا پیچھا کرے۔“ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4685]
اردو حاشہ: عین، یعنی اصل مال سے مراد وہ مال ہے جو چوری ہوگیا یا کسی نے چھین لیا، پھر وہ کسی اور آدمی کے پاس مل گیا۔ اس حدیث کی رو سے اصل مالک اپنا مالک دوسرے شخص سے بلا معاوضہ لے لے گا۔ دوسرا شخص اپنی رقم کا مطالبہ بیچنے والے سے کرے گا نہ کہ اصل مالک سے کیونکہ وہ تو اس کا ذاتی مال ہے۔ (تفصیلی بحث کے لیے دیکھیے، حدیث: 4683)
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4685 سے ماخوذ ہے۔