سنن ابن ماجه
كتاب الأحكام— کتاب: قضا کے احکام و مسائل
بَابُ : الْيَمِينِ عِنْدَ مَقَاطِعِ الْحُقُوقِ باب: حقوق دلانے کی جگہوں پر قسم کھانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2326
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَزَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ فَرُّوخَ ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى وَهُوَ أَبُو يُونُسَ الْقَوِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَحْلِفُ عِنْدَ هَذَا الْمِنْبَرِ عَبْدٌ وَلَا أَمَةٌ عَلَى يَمِينٍ آثِمَةٍ وَلَوْ عَلَى سِوَاكٍ رَطْبٍ إِلَّا وَجَبَتْ لَهُ النَّارُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس منبر کے پاس کوئی غلام یا لونڈی جھوٹی قسم نہیں کھاتا ، اگرچہ وہ قسم ایک تازہ مسواک ہی کے لیے ہو ، مگر جہنم کی آگ اس پر واجب ہو جاتی ہے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´حقوق دلانے کی جگہوں پر قسم کھانے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اس منبر کے پاس کوئی غلام یا لونڈی جھوٹی قسم نہیں کھاتا، اگرچہ وہ قسم ایک تازہ مسواک ہی کے لیے ہو، مگر جہنم کی آگ اس پر واجب ہو جاتی ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2326]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اس منبر کے پاس کوئی غلام یا لونڈی جھوٹی قسم نہیں کھاتا، اگرچہ وہ قسم ایک تازہ مسواک ہی کے لیے ہو، مگر جہنم کی آگ اس پر واجب ہو جاتی ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2326]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
باہمی اختلاف اور جھگڑے کے فیصلے کےلیے قسم لینا اور قسم کھانا جائز ہے بشرطیکہ سچی قسم ہو۔
گناہ صرف جھوٹی قسم کھانے میں ہے۔
(2)
کسی عام جگہ گناہ کرنے کی نسبت احترام والی جگہ گناہ کرنا زیادہ برا ہے اور اس کی سزا بھی زیادہ سخت ہو گی۔
(3)
مسجد دوسرے مقامات سے زیادہ احترام کی مستحق ہے۔
(4)
تمام مسجدوں میں سے سب سے زیادہ احترام والی مسجدیں تین ہیں: مسجد حرام، جس میں کعبہ شریف ہے، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ۔
(5)
مسجد میں منبر کے قریب کی جگہ زیادہ تقدس کی حامل ہے خصوصاً مسجد نبوی میں منبر کے قریب کی جگہ کو ’’جنت کا باغیچہ‘‘ فرمایا گیا ہے۔
ارشاد نبوی ہے: میرے گھر (حجرہ عائشہ رضی اللہ عنہا)
اور میرے منبر کے درمیان کی جگہ جنت کے باغیچوں میں سے ایک باغیچہ ہے۔ (صحيح البخاري، فضل الصلاة فى مسجد مكة و المدينة، باب فضل ما بين القبر والمنبر، حديث: 1192- وصحيح مسلم.الحج .باب مابين القبر والمنبر روضة من رياض الحنة . حديث: 1390)
۔ 6۔
اس مقام پر جھوٹی قسم کھانا انتہائی بری حرکت اور بہت بڑا کبیرہ گناہ ہے خاص طور پر جب کسی معمولی چیز کےلیے ہو تو اور بھی بری بات ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
باہمی اختلاف اور جھگڑے کے فیصلے کےلیے قسم لینا اور قسم کھانا جائز ہے بشرطیکہ سچی قسم ہو۔
گناہ صرف جھوٹی قسم کھانے میں ہے۔
(2)
کسی عام جگہ گناہ کرنے کی نسبت احترام والی جگہ گناہ کرنا زیادہ برا ہے اور اس کی سزا بھی زیادہ سخت ہو گی۔
(3)
مسجد دوسرے مقامات سے زیادہ احترام کی مستحق ہے۔
(4)
تمام مسجدوں میں سے سب سے زیادہ احترام والی مسجدیں تین ہیں: مسجد حرام، جس میں کعبہ شریف ہے، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ۔
(5)
مسجد میں منبر کے قریب کی جگہ زیادہ تقدس کی حامل ہے خصوصاً مسجد نبوی میں منبر کے قریب کی جگہ کو ’’جنت کا باغیچہ‘‘ فرمایا گیا ہے۔
ارشاد نبوی ہے: میرے گھر (حجرہ عائشہ رضی اللہ عنہا)
اور میرے منبر کے درمیان کی جگہ جنت کے باغیچوں میں سے ایک باغیچہ ہے۔ (صحيح البخاري، فضل الصلاة فى مسجد مكة و المدينة، باب فضل ما بين القبر والمنبر، حديث: 1192- وصحيح مسلم.الحج .باب مابين القبر والمنبر روضة من رياض الحنة . حديث: 1390)
۔ 6۔
اس مقام پر جھوٹی قسم کھانا انتہائی بری حرکت اور بہت بڑا کبیرہ گناہ ہے خاص طور پر جب کسی معمولی چیز کےلیے ہو تو اور بھی بری بات ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2326 سے ماخوذ ہے۔