سنن ابن ماجه
كتاب الأحكام— کتاب: قضا کے احکام و مسائل
بَابُ : مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَاجِرَةٍ لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالاً باب: جھوٹی قسم کھا کر کسی کا مال ہڑپ کر لینے کی شناعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2324
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَخَاهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبٍ ، أَنَّ أَبَا أُمَامَةَ الْحَارِثِيَّ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا يَقْتَطِعُ رَجُلٌ حَقَّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِيَمِينِهِ إِلَّا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَأَوْجَبَ لَهُ النَّارَ " ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ وَإِنْ كَانَ شَيْئًا يَسِيرًا ؟ قَالَ : " وَإِنْ كَانَ سِوَاكًا مِنْ أَرَاكٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوامامہ حارثی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ` انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” جو شخص بھی قسم کے ذریعہ کسی مسلمان آدمی کا حق مارے گا ، تو اللہ تعالیٰ اس پر جنت کو حرام کر دے گا ، اور جہنم کو اس کے لیے واجب کر دے گا ، لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا : اللہ کے رسول ! اگرچہ وہ معمولی چیز ہو ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں ، خواہ وہ پیلو کی ایک مسواک ہی ہو “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´جھوٹی قسم کھا کر کسی کا مال ہڑپ کر لینے کی شناعت کا بیان۔`
ابوامامہ حارثی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ” جو شخص بھی قسم کے ذریعہ کسی مسلمان آدمی کا حق مارے گا، تو اللہ تعالیٰ اس پر جنت کو حرام کر دے گا، اور جہنم کو اس کے لیے واجب کر دے گا، لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! اگرچہ وہ معمولی چیز ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ہاں، خواہ وہ پیلو کی ایک مسواک ہی ہو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2324]
ابوامامہ حارثی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ” جو شخص بھی قسم کے ذریعہ کسی مسلمان آدمی کا حق مارے گا، تو اللہ تعالیٰ اس پر جنت کو حرام کر دے گا، اور جہنم کو اس کے لیے واجب کر دے گا، لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! اگرچہ وہ معمولی چیز ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ہاں، خواہ وہ پیلو کی ایک مسواک ہی ہو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2324]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کی ادائیگی بھی فرض ہے۔
2۔
شرک کے علاوہ دوسرے گناہوں کی وجہ سے بھی جہنم کی سزا مل سکتی ہے لہٰذا ان سے بھی زیادہ سے زیادہ اجتناب کرنے کی کوشش ضروری ہے۔
(3)
شرک کے علاوہ دوسرے گناہوں سے جہنم واجب ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اسے جہنم میں ضرور جانا پڑے گا سزا بھگتنے کےبعد اس کو نجات مل سکتی ہے۔
اور اگر اس گناہ سے بڑی کوئی نیکی موجود ہو تو اس کی وجہ سے بھی نجات ہو سکتی ہے۔
اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو اپنے خاص فضل سے بھی اسے معاف کر سکتا ہے لیکن شرک اکبر اورایسے کفریہ کام جو اسلام سے خارج کردیتے ہیں ان کی سزا دائمی جہنم ہے۔
(4)
بعض گناہ بظاہر معمولی ہوتے ہیں لیکن اللہ کی نظر میں وہ بہت بڑے ہوتے ہیں اس لیے ہر چھوٹے بڑے گناہ سے بچنا چاہیے۔
(5)
اللہ کے نام کی جھوٹی قسم کھانا کبیرہ گناہ ہےاور معمولی سی چیز کےلیے اس کا ارتکاب اوربھی زیادہ برا ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کی ادائیگی بھی فرض ہے۔
2۔
شرک کے علاوہ دوسرے گناہوں کی وجہ سے بھی جہنم کی سزا مل سکتی ہے لہٰذا ان سے بھی زیادہ سے زیادہ اجتناب کرنے کی کوشش ضروری ہے۔
(3)
شرک کے علاوہ دوسرے گناہوں سے جہنم واجب ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اسے جہنم میں ضرور جانا پڑے گا سزا بھگتنے کےبعد اس کو نجات مل سکتی ہے۔
اور اگر اس گناہ سے بڑی کوئی نیکی موجود ہو تو اس کی وجہ سے بھی نجات ہو سکتی ہے۔
اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو اپنے خاص فضل سے بھی اسے معاف کر سکتا ہے لیکن شرک اکبر اورایسے کفریہ کام جو اسلام سے خارج کردیتے ہیں ان کی سزا دائمی جہنم ہے۔
(4)
بعض گناہ بظاہر معمولی ہوتے ہیں لیکن اللہ کی نظر میں وہ بہت بڑے ہوتے ہیں اس لیے ہر چھوٹے بڑے گناہ سے بچنا چاہیے۔
(5)
اللہ کے نام کی جھوٹی قسم کھانا کبیرہ گناہ ہےاور معمولی سی چیز کےلیے اس کا ارتکاب اوربھی زیادہ برا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2324 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 5421 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´مال تھوڑا ہو یا زیادہ ہر حال میں فیصلہ ہو گا۔`
ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو آدمی کسی مسلمان آدمی کا حق قسم کھا کر مار لے گا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے جہنم واجب کر دے گا اور جنت اس پر حرام کر دے گا “، ایک شخص نے آپ سے کہا: اگرچہ وہ معمولی سی چیز ہو؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ” گرچہ وہ پیلو کی ایک ڈال ہو “ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5421]
ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو آدمی کسی مسلمان آدمی کا حق قسم کھا کر مار لے گا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے جہنم واجب کر دے گا اور جنت اس پر حرام کر دے گا “، ایک شخص نے آپ سے کہا: اگرچہ وہ معمولی سی چیز ہو؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ” گرچہ وہ پیلو کی ایک ڈال ہو “ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5421]
اردو حاشہ: 1۔ باب کا مقصد یہ ہے کہ مال تھوڑا ہوزیادہ اس کی بابت فیصلہ کیا جا سکتا ہے خواہ حاکم فیصلہ کرے یا عدالت۔ رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمانا کہ خواہ وہ پیلو کی ٹہنی ہی ہو، ا اگر جھوٹی قسم ہے ہڑپ کیا گیا تواس پرجہنم واجب اورجنت حرام ہوجاتی ہے کیونکہ یہ ظالم ہے۔
(2) جھوٹی قسم کھانا کبیرہ گناہ ہے۔
(3) آگ واجب کردیتا ہے یعنی ایک دفعہ تو وہ لازما آگ میں جائے گا اگرچہ بعد میں نکل آئے۔ جنت کےحرام ہونے سے مراد بہی جنت میں اولیں دخول کا حرام ہونا ہے ورنہ ہرمومن کا جنت میں جانا قطعی ہے نیز یہ بھی تب ہے اگراسے معافی نہ ملے۔ اگرمعافی مل جائے توپھریہ سزا نہیں ہوگی۔
(2) جھوٹی قسم کھانا کبیرہ گناہ ہے۔
(3) آگ واجب کردیتا ہے یعنی ایک دفعہ تو وہ لازما آگ میں جائے گا اگرچہ بعد میں نکل آئے۔ جنت کےحرام ہونے سے مراد بہی جنت میں اولیں دخول کا حرام ہونا ہے ورنہ ہرمومن کا جنت میں جانا قطعی ہے نیز یہ بھی تب ہے اگراسے معافی نہ ملے۔ اگرمعافی مل جائے توپھریہ سزا نہیں ہوگی۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5421 سے ماخوذ ہے۔