حدیث نمبر: 2308
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ الْمَقْبُريِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ جُعِلَ قَاضِيًا بَيْنَ النَّاسِ فَقَدْ ذُبِحَ بِغَيْرِ سِكِّينٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص لوگوں کا قاضی ( فیصلہ کرنے والا ) بنایا گیا تو وہ بغیر چھری کے ذبح کر دیا گیا “ ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: یعنی بن مارے اس کی موت ہوئی، مطلب یہ ہے کہ قضا کا عہدہ بڑے خطرے اور مواخذے کا کام ہے، اور اس میں عاقبت کے خراب ہونے کا ڈر ہے مگر جس کو اللہ تعالیٰ بچائے، اور اسی واسطے اکثر اسلاف نے تکلیفیں برداشت کیں اور ذلت کو گوارا کیا، لیکن قضا کا عہدہ نہ قبول کیا، چنانچہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کو خلیفہ منصور نے مارا پیٹا اور قید کیا، لیکن انہوں نے قاضی بننا قبول نہ کیا، تاکہ اپنے آپ کو حدیث میں وارد وعید سے بچا سکیں، اورجن علماء نے یہ ذمہ داریاں قبول کیں انہوں نے ایک دینی فریضہ پورا کیا، ان کو اللہ کے فضل سے اپنے اوپر اعتماد تھا کہ وہ اس عہدے کے ذریعے سے ملک اور عوام کی خدمت کریں گے، اور اللہ رب العزت کے یہاں اجر کے مستحق ہوں گے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الأحكام / حدیث: 2308
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ : ( تحفة الأشراف : 12955 ) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الأقضیة 1 ( 3571 ) ، سنن الترمذی/الأحکام 1 ( 1325 ) ، مسند احمد ( 2/365 ) ( صحیح ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 1325 | سنن ابي داود: 3571 | سنن ابي داود: 3572 | معجم صغير للطبراني: 1149 | بلوغ المرام: 1189

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´قاضیوں کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص لوگوں کا قاضی (فیصلہ کرنے والا) بنایا گیا تو وہ بغیر چھری کے ذبح کر دیا گیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2308]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
لوگوں کے جھگڑوں کا فیصلہ کرنا ایک اہم ذمہ داری ہے لیکن یہ بہت نازک ذمہ داری ہے کیونکہ صحیح فیصلوں سے معاشر ے میں امن و سکون قائم رہتا ہے اور غلط فیصلوں کا نتیجہ بدامنی اورفساد کی صورت میں سامنے آتا ہے۔

(2)
غلط فیصلے سے کسی بے گناہ کی جان بھی جا سکتی ہے اور ایک آدمی کا حق دوسرے کو مل سکتا ہے، اس لیے جج کو اپنی اس ذمے داری کا ا حساس کرتے ہوئے صحیح فیصلے تک پہنچنے کی زیادہ سے زیادہ کوشش کرنا ضروری ہے۔

(3)
’’بغیر چھری سے ذبح ہونے‘‘ سے اس منصب کی نزاکت اور اس فریضے کی انجام دہی کی مشکل کی طرف اشارہ ہے، اس کے باوجود معاشرے میں اس منصب کا وجود ضروری ہے، اس لیے جس شخص میں صلاحیت موجود ہو، اسے یہ ذمہ داری قبول کرنا اور اسے انصاف کے ساتھ کماحقہ ادا کرنا ضروری ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2308 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1325 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´قاضی اور قضاء کے سلسلے میں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے ارشادات۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کو منصب قضاء پر فائز کیا گیا یا جو لوگوں کا قاضی بنایا گیا، (گویا) وہ بغیر چھری کے ذبح کیا گیا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأحكام/حدیث: 1325]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
ایک قول کے مطابق ذبح کا معنوی مفہوم مراد ہے کیونکہ اگراس نے صحیح فیصلہ دیا تودنیا والے اس کے پیچھے پڑجائیں گے اوراگرغلط فیصلہ دیا تو وہ آخرت کے عذاب کا مستحق ہوگا، اورایک قول یہ ہے کہ یہ تعبیراس لیے اختیارکی گئی ہے کہ اسے خبرداراورمتنبہ کیاجائے کہ اس ہلاکت سے مراد اس کے دین وآخرت کی تباہی وبربادی ہے، بدن کی نہیں، یا یہ کہ چھری سے ذبح کرنے میں مذبوح کے لیے راحت رسانی ہوتی ہے اور بغیرچھری کے گلا گھوٹنے یا کسی اورطرح سے زیادہ تکلیف کا باعث ہوتا ہے، لہٰذا اس کے ذکر سے ڈرانے اورخوف دلانے میں مبالغہ کا بیان ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1325 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3572 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´منصب قضاء طلب کرنے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص لوگوں کے درمیان قاضی بنا دیا گیا (گویا) وہ بغیر چھری کے ذبح کر دیا گیا۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3572]
فوائد ومسائل:
فائدہ: منصب قضا انتہائی ذمہ داری اور آزمائش کا منصب ہے۔
اس کا طالب اور حریص ہونے کی اس کے سوا کوئی وجہ نہیں ہوسکتی۔
کہ اس عہدے کا طلب گار یا اس سے مالی فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔
یا جاہ ومنصب کا خواہش مند ہے۔
یہ دونوں باتیں ایسی ہیں۔
جن کے سبب انسان اس عہدے کے لئے نا اہل ہوجاتا ہے۔
تاہم اگر یہ منصب کسی نہ چاہنے والے کے سپرد کردیا جائے۔
اور وہ حق وانصاف پر ثابت قدم رہے تو اس بڑی عزیمت اور اللہ کے ہاں بڑا اجر ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3572 سے ماخوذ ہے۔