سنن ابن ماجه
كتاب التجارات— کتاب: تجارت کے احکام و مسائل
بَابُ : اتِّخَاذِ الْمَاشِيَةِ باب: جانور پالنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2306
حَدَّثَنَا عِصْمَةُ بْنُ الْفَضْلِ النَّيْسَابُورِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ فِرَاسٍ أَبُو هُرَيْرَةَ الصَّيْرَفِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ ، حَدَّثَنَا زَرْبِيٌّ إِمَامُ مَسْجِدِ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :" الشَّاةُ مِنْ دَوَابِّ الْجَنَّةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بکری تو جنت کے جانوروں میں سے ہے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´جانور پالنے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بکری تو جنت کے جانوروں میں سے ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2306]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بکری تو جنت کے جانوروں میں سے ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2306]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ حلال جانور ہے۔
اس کا گوشت اور دودھ مفید ہے، اس لیے بکریاں پالنا اور ان کا گوشت اور دودھ استعمال کرنا چاہیے۔
(2)
اس کا یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ یہ ان جانوروں میں سے ہے جنہیں اللہ کی راہ میں ذبح کیا جاتا ہے اور عید کے موقع پر ان کی قربانی دی جاتی ہے جس کی وجہ سے جنت حاصل ہوتی ہے۔
(3)
اس حدیث کی سند میں ایک راوی ’’زربی بن عبد اللہ‘‘ ضعیف ہے، جس کی وجہ سے ہمارے فاضل محقق نے اسے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جب کہ علامہ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے اسے الصحیحہ میں صحیح قرار دیا ہے۔
تفصیل کےلیے دیکھیے: (الصحيحة، رقم: 1128)
فوائد و مسائل:
(1)
اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ حلال جانور ہے۔
اس کا گوشت اور دودھ مفید ہے، اس لیے بکریاں پالنا اور ان کا گوشت اور دودھ استعمال کرنا چاہیے۔
(2)
اس کا یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ یہ ان جانوروں میں سے ہے جنہیں اللہ کی راہ میں ذبح کیا جاتا ہے اور عید کے موقع پر ان کی قربانی دی جاتی ہے جس کی وجہ سے جنت حاصل ہوتی ہے۔
(3)
اس حدیث کی سند میں ایک راوی ’’زربی بن عبد اللہ‘‘ ضعیف ہے، جس کی وجہ سے ہمارے فاضل محقق نے اسے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جب کہ علامہ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے اسے الصحیحہ میں صحیح قرار دیا ہے۔
تفصیل کےلیے دیکھیے: (الصحيحة، رقم: 1128)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2306 سے ماخوذ ہے۔