سنن ابن ماجه
كتاب التجارات— کتاب: تجارت کے احکام و مسائل
بَابُ : النَّهْيِ أَنْ يُصِيبَ مِنْهَا شَيْئًا إِلاَّ بِإِذْنِ صَاحِبِهَا باب: مالک کی اجازت کے بغیر کسی کے ریوڑ یا باغ سے کچھ لینا منع ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ بِشْرِ بْنِ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ سَلِيطِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الطُّهَوِيِّ ، عَنْ ذُهَيْلِ بْنِ عَوْفِ بْنِ شَمَّاخٍ الطُّهَوِيِّ ، حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، إِذْ رَأَيْنَا إِبِلًا مَصْرُورَةً بِعِضَاهِ الشَّجَرِ ، فَثُبْنَا إِلَيْهَا ، فَنَادَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَجَعْنَا إِلَيْهِ ، فَقَالَ : " إِنَّ هَذِهِ الْإِبِلَ لِأَهْلِ بَيْتٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ هُوَ قُوتُهُمْ وَيُمْنُهُمْ بَعْدَ اللَّهِ أَيَسُرُّكُمْ لَوْ رَجَعْتُمْ إِلَى مَزَاوِدِكُمْ فَوَجَدْتُمْ مَا فِيهَا قَدْ ذُهِبَ بِهِ أَتُرَوْنَ ذَلِكَ عَدْلًا " ، قَالُوا : لَا ، قَالَ : " فَإِنَّ هَذَا كَذَلِكَ " ، قُلْنَا : أَفَرَأَيْتَ إِنِ احْتَجْنَا إِلَى الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ ؟ ، فَقَالَ : " كُلْ وَلَا تَحْمِلْ وَاشْرَبْ وَلَا تَحْمِلْ " .
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ اتنے میں ہم نے خاردار درختوں کی آڑ میں ایک اونٹنی دیکھی ، جس کے تھن دودھ سے بھرے ہوئے تھے تو اس ہم ( کا دودھ دوہنے کے لیے ) اس کی طرف لپکے ، یہ دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو آواز دی تو ہم آپ کی طرف پلٹ آئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ اونٹنی کسی مسلمان گھرانے کی ہے ، اور یہی ان کی روزی ہے ، اور اللہ تعالیٰ کے بعد یہی ان کے لیے خیر و برکت کی چیز ہے ، کیا تم اس بات کو پسند کرو گے کہ تم اپنے توشہ دانوں کے پاس واپس آؤ تو جو کچھ ان میں ہے اس سے ان کو خالی پاؤ ، کیا تم اس کو انصاف سمجھو گے “ ؟ لوگوں نے عرض کیا : نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بس یہ بھی ایسا ہی ہے “ ، ہم نے عرض کیا : اگر ہم کھانے پینے کے حاجت مند ہوں تو کیا تب بھی یہی حکم ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( ایسی حالت میں ) کھا پی لو لیکن اٹھا کر نہ لے جاؤ “ ۱؎ ۔