سنن ابن ماجه
كتاب التجارات— کتاب: تجارت کے احکام و مسائل
بَابُ : مَا لِلْعَبْدِ أَنْ يُعْطِيَ وَيَتَصَدَّقَ باب: غلام کسی کو کیا دے سکتا ہے اور کیا صدقہ کر سکتا ہے؟
حدیث نمبر: 2297
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ ، قَالَ : كَانَ مَوْلَايَ يُعْطِينِي الشَّيْءَ ، فَأُطْعِمُ مِنْهُ ، فَمَنَعَنِي ، أَوْ قَالَ : فَضَرَبَنِي ، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ سَأَلَهُ ، فَقُلْتُ : لَا أَنْتَهِي أَوْ لَا أَدَعُهُ ؟ ، فَقَالَ : " الْأَجْرُ بَيْنَكُمَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمیر مولی آبی اللحم رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` میرے مالک مجھے کوئی چیز دیتے تو میں اس میں سے اوروں کو بھی کھلا دیتا تھا تو انہوں نے مجھ کو ایسا کرنے سے روکا یا کہا : انہوں نے مجھے مارا ، تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : یا اسی مالک نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : میں نے عرض کیا : میں اس سے باز نہیں آ سکتا ، یا میں اسے چھوڑ نہیں سکتا ( کہ مسکین کو کھانا نہ کھلاؤں ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم دونوں کو اس کا اجر ملے گا “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´غلام کسی کو کیا دے سکتا ہے اور کیا صدقہ کر سکتا ہے؟`
عمیر مولی آبی اللحم رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میرے مالک مجھے کوئی چیز دیتے تو میں اس میں سے اوروں کو بھی کھلا دیتا تھا تو انہوں نے مجھ کو ایسا کرنے سے روکا یا کہا: انہوں نے مجھے مارا، تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: یا اسی مالک نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: میں نے عرض کیا: میں اس سے باز نہیں آ سکتا، یا میں اسے چھوڑ نہیں سکتا (کہ مسکین کو کھانا نہ کھلاؤں) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم دونوں کو اس کا اجر ملے گا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2297]
عمیر مولی آبی اللحم رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میرے مالک مجھے کوئی چیز دیتے تو میں اس میں سے اوروں کو بھی کھلا دیتا تھا تو انہوں نے مجھ کو ایسا کرنے سے روکا یا کہا: انہوں نے مجھے مارا، تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: یا اسی مالک نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: میں نے عرض کیا: میں اس سے باز نہیں آ سکتا، یا میں اسے چھوڑ نہیں سکتا (کہ مسکین کو کھانا نہ کھلاؤں) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم دونوں کو اس کا اجر ملے گا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2297]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل: (1)
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اپنے غلاموں کا اس طرح خیال رکھتے تھے جس طرح اولاد کا خیال رکھا جاتا ہے، اس لیے حضرت آبی اللحم ؓ اپنے غلام کو کھانے کے لیے عمدہ چیزیں دے دیتے تھے۔
(2)
حضرت آبی اللحم رضی اللہ عنہ کا اپنے غلام کو اس سخاوت سے منع کرنا شفقت کی بنا پر تھا کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ جو چیز انہیں دی جاتی ہے وہ خود کھائیں۔
(3)
حضرت عمیر رضی اللہ عنہ جذبہ سخاوت کی بنا پر اپنی چیز دوسروں کو دے دیتے تھے، رسول اللہ ﷺ نے ان کا یہ جذبہ پسند فرمایا۔
(4)
ثواب میں شراکت اس وجہ سے ہے کہ سخاوت حضرت عمیر رضی اللہ عنہ کی تھی لیکن مال حضرت آبی اللحم رضی اللہ عنہ کا تھا۔
فوائد و مسائل: (1)
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اپنے غلاموں کا اس طرح خیال رکھتے تھے جس طرح اولاد کا خیال رکھا جاتا ہے، اس لیے حضرت آبی اللحم ؓ اپنے غلام کو کھانے کے لیے عمدہ چیزیں دے دیتے تھے۔
(2)
حضرت آبی اللحم رضی اللہ عنہ کا اپنے غلام کو اس سخاوت سے منع کرنا شفقت کی بنا پر تھا کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ جو چیز انہیں دی جاتی ہے وہ خود کھائیں۔
(3)
حضرت عمیر رضی اللہ عنہ جذبہ سخاوت کی بنا پر اپنی چیز دوسروں کو دے دیتے تھے، رسول اللہ ﷺ نے ان کا یہ جذبہ پسند فرمایا۔
(4)
ثواب میں شراکت اس وجہ سے ہے کہ سخاوت حضرت عمیر رضی اللہ عنہ کی تھی لیکن مال حضرت آبی اللحم رضی اللہ عنہ کا تھا۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2297 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 2538 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´غلام کے صدقہ کا بیان۔`
عمیر مولی آبی اللحم کہتے ہیں کہ میرے مالک نے مجھے گوشت بھوننے کا حکم دیا، اتنے میں ایک مسکین آیا، میں نے اس میں سے تھوڑا سا اسے کھلا دیا، میرے مالک کو اس بات کی خبر ہو گئی تو اس نے مجھے مارا، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ نے اسے بلوایا اور پوچھا: تم نے اسے کیوں مارا ہے؟ اس نے کہا: یہ میرا کھانا (دوسروں کو) بغیر اس کے کہ میں اسے حکم دوں کھلا دیتا ہے۔ اور دوسری بار راوی نے کہا: بغیر میرے حکم کے کھلا دیتا ہے، تو آپ نے فرمایا: ” اس کا ثواب ت [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2538]
عمیر مولی آبی اللحم کہتے ہیں کہ میرے مالک نے مجھے گوشت بھوننے کا حکم دیا، اتنے میں ایک مسکین آیا، میں نے اس میں سے تھوڑا سا اسے کھلا دیا، میرے مالک کو اس بات کی خبر ہو گئی تو اس نے مجھے مارا، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ نے اسے بلوایا اور پوچھا: تم نے اسے کیوں مارا ہے؟ اس نے کہا: یہ میرا کھانا (دوسروں کو) بغیر اس کے کہ میں اسے حکم دوں کھلا دیتا ہے۔ اور دوسری بار راوی نے کہا: بغیر میرے حکم کے کھلا دیتا ہے، تو آپ نے فرمایا: ” اس کا ثواب ت [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2538]
اردو حاشہ: (1) ”آبی اللحم“ یہ ان کا لقب تھا۔ نام خلف بتایا جاتا ہے۔ اور بھی اقوال ہیں اس کے لفظی معنیٰ ہیں: گوشت کا انکار کرنے والا۔ ان کا یہ لقب اس لیے تھا کہ وہ گوشت نہیں کھاتے تھے۔ بعض اہل علم نے کہا ہے کہ دور جاہلیت میں وہ بتوں کے لیے ذبح شدہ گوشت نہیں کھاتے تھے۔ مذکورہ حدیث میں گوشت تیار کرنے کے حکم سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ عام گوشت کھاتے تھے۔ ممکن ہے مہمانوں یا اہل خانہ کے لیے تیار کروایا ہو۔ مالک سے مراد یہی ہیں۔
(2) ”ثواب دونوں کو ملے گا۔“ البتہ مالک کی اجازت ضروری ہے الا یہ کہ بہت ہی معمولی چیز ہو۔ مالک کو حکم یا رضا مندی کا ثواب اور غلام کو ادائیگی کا ثواب، لیکن ضروری نہیں کہ برابر ہو۔
(2) ”ثواب دونوں کو ملے گا۔“ البتہ مالک کی اجازت ضروری ہے الا یہ کہ بہت ہی معمولی چیز ہو۔ مالک کو حکم یا رضا مندی کا ثواب اور غلام کو ادائیگی کا ثواب، لیکن ضروری نہیں کہ برابر ہو۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2538 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1025 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
آبی اللحم کے آزاد کردہ غلام عمیر بیان کرتے ہیں کہ مجھے میرے آقا نے گوشت کے لمبے لمبے ٹکڑے بنانے کا حکم دیا میرے پاس ایک مسکین آ گیا تو میں نے اس میں سے اسے کچھ کھانے کے لیے دے دیا۔ میرے آقا کو اس کا پتہ چل گیا تو اس نے مجھے مارا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اس کا تذکرہ کیا تو آپﷺ نے اسے بلا کر پوچھا: ’’تو نے اسے کیوں مارا ہے۔‘‘ اس نے کہا: میرے حکم کے بغیر میرا طعام دے دیتا ہے تو... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:2369]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: حضرت عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرفی اجازت سمجھ کر مسکین کو کھانے کے لیے گوشت دے دیا انہیں یہ خیال نہ تھا کہ مالک ناراض ہو گا۔
کیونکہ مالک کی ناراضگی کی صورت میں کوئی چیز جائزنہیں۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک جب معاملہ پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مالک کو بتا دیا کہ عام معمول و دستور کے مطابق اگر غلام کوئی چیز دے دے تو یہ روا ہے اور دونوں کو اپنی اپنی حیثیت کے مطابق اجر ملتا ہے۔
کیونکہ مالک کی ناراضگی کی صورت میں کوئی چیز جائزنہیں۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک جب معاملہ پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مالک کو بتا دیا کہ عام معمول و دستور کے مطابق اگر غلام کوئی چیز دے دے تو یہ روا ہے اور دونوں کو اپنی اپنی حیثیت کے مطابق اجر ملتا ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1025 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1025 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
آبی اللحم کے آزاد کردہ غلام عمیر سے روایت ہے کہ میں غلام تھا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا میں اپنے مالکوں کے مال سے کچھ صدقہ دے سکتا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ہاں! اجر تمھیں آدھا آدھا ملے گا۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:2368]
حدیث حاشیہ: فوائد و مسائل: نوٹ: حضرت عبداللہ یا حویرث رضی اللہ تعالی عنہ نے جاہلیت کے دورمیں ہی ان جانوروں کا گوشت کھانا چھوڑ دیا تھا۔
جو بتوں کے تقرب کے لیے ذبح کیے جاتے تھے۔
اس لیے ان کو ابی اللحم (گوشت کا منکر)
کا نام دیا گیا۔
لیکن افسوس آج مسلمان غیر اللہ کے تقرب اور خوشنودی کے لیے مختلف مزاروں کے لیے نذر و نیاز کے نام حیوان ذبح کرتےہیں اورمسلمان بڑے شوق سے تبرک سمجھ کرکھاتے ہیں۔
جو بتوں کے تقرب کے لیے ذبح کیے جاتے تھے۔
اس لیے ان کو ابی اللحم (گوشت کا منکر)
کا نام دیا گیا۔
لیکن افسوس آج مسلمان غیر اللہ کے تقرب اور خوشنودی کے لیے مختلف مزاروں کے لیے نذر و نیاز کے نام حیوان ذبح کرتےہیں اورمسلمان بڑے شوق سے تبرک سمجھ کرکھاتے ہیں۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1025 سے ماخوذ ہے۔