سنن ابن ماجه
كتاب التجارات— کتاب: تجارت کے احکام و مسائل
بَابُ : مَا لِلْعَبْدِ أَنْ يُعْطِيَ وَيَتَصَدَّقَ باب: غلام کسی کو کیا دے سکتا ہے اور کیا صدقہ کر سکتا ہے؟
حدیث نمبر: 2296
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، ح وحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُسْلِمٍ الْمُلَائِيِّ ، سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُجِيبُ دَعْوَةَ الْمَمْلُوكِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غلام کی دعوت قبول کرتے تھے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´غلام کسی کو کیا دے سکتا ہے اور کیا صدقہ کر سکتا ہے؟`
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غلام کی دعوت قبول کرتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2296]
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غلام کی دعوت قبول کرتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2296]
اردو حاشہ:
فائده:
یہ حدیث کا ایک ٹکڑا ہے۔
پوری حدیث سنن ابن ماجہ ہی میں کتاب الزھد میں آئے گی۔ (دیکھیے ‘ حدیث: 4178)
فائده:
یہ حدیث کا ایک ٹکڑا ہے۔
پوری حدیث سنن ابن ماجہ ہی میں کتاب الزھد میں آئے گی۔ (دیکھیے ‘ حدیث: 4178)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2296 سے ماخوذ ہے۔