سنن ابن ماجه
كتاب التجارات— کتاب: تجارت کے احکام و مسائل
بَابُ : مَا لِلْمَرْأَةِ مِنْ مَالِ زَوْجِهَا باب: شوہر کے مال میں عورت کے حق کا بیان۔
حدیث نمبر: 2295
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا تُنْفِقُ الْمَرْأَةُ مِنْ بَيْتِهَا شَيْئًا إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَلَا الطَّعَامَ ، قَالَ : " ذَلِكَ مِنْ أَفْضَلِ أَمْوَالِنَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” عورت اپنے گھر میں سے اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر کچھ خرچ نہ کرے “ لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کھانا بھی کسی کو نہ دے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں ، کھانا بھی نہ دے ، یہ تو ہمارے مالوں میں سب سے بہتر مال ہے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´شوہر کے مال میں عورت کے حق کا بیان۔`
ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ” عورت اپنے گھر میں سے اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر کچھ خرچ نہ کرے “ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کھانا بھی کسی کو نہ دے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ہاں، کھانا بھی نہ دے، یہ تو ہمارے مالوں میں سب سے بہتر مال ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2295]
ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ” عورت اپنے گھر میں سے اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر کچھ خرچ نہ کرے “ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کھانا بھی کسی کو نہ دے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ہاں، کھانا بھی نہ دے، یہ تو ہمارے مالوں میں سب سے بہتر مال ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2295]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
عورت کو صدقہ وغیرہ کرنے کے لیے خاوند سے اجازت لینی چاہیے۔
(2)
طعام (کھانے کی چیز)
سے مراد تیار شدہ کھانا، روٹی سالن وغیرہ بھی ہو سکتا ہے اور غلہ، یعنی گندم، جو اور چاول وغیرہ بھی۔
(3)
اگر مرد کی عادت اور حالات کی وجہ سے عورت کو یقین ہو کہ فلاں صدقے سے یا کسی مستحق کی مدد کرنے سے خاوند ناراض نہیں ہو گا توالگ سے اجازت لینا ضروری نہیں، تاہم جس چیز کےبارے میں یہ خیال ہو کہ اسے خرچ کرنا خاوند پسند نہیں کرے گا تو ضرور پوچھ لینا چاہیے، مثلاً: اگر عورت کوئی زیور صدقہ کرنا چاہتی ہے یا ایک بڑی رقم کسی کو دینا چاہتی ہے تو اجازت لینا ضرور ی ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
عورت کو صدقہ وغیرہ کرنے کے لیے خاوند سے اجازت لینی چاہیے۔
(2)
طعام (کھانے کی چیز)
سے مراد تیار شدہ کھانا، روٹی سالن وغیرہ بھی ہو سکتا ہے اور غلہ، یعنی گندم، جو اور چاول وغیرہ بھی۔
(3)
اگر مرد کی عادت اور حالات کی وجہ سے عورت کو یقین ہو کہ فلاں صدقے سے یا کسی مستحق کی مدد کرنے سے خاوند ناراض نہیں ہو گا توالگ سے اجازت لینا ضروری نہیں، تاہم جس چیز کےبارے میں یہ خیال ہو کہ اسے خرچ کرنا خاوند پسند نہیں کرے گا تو ضرور پوچھ لینا چاہیے، مثلاً: اگر عورت کوئی زیور صدقہ کرنا چاہتی ہے یا ایک بڑی رقم کسی کو دینا چاہتی ہے تو اجازت لینا ضرور ی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2295 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 670 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´عورت اپنے شوہر کے گھر سے خرچ کرے تو کیسا ہے؟`
ابوامامہ باہلی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حجۃ الوداع کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے خطبہ میں فرماتے سنا: ” عورت اپنے شوہر کے گھر سے اس کی اجازت کے بغیر کچھ خرچ نہ کرے “، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! اور کھانا بھی نہیں؟۔ آپ نے فرمایا: ” یہ ہمارے مالوں میں سب سے افضل مال ہے “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الزكاة/حدیث: 670]
ابوامامہ باہلی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حجۃ الوداع کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے خطبہ میں فرماتے سنا: ” عورت اپنے شوہر کے گھر سے اس کی اجازت کے بغیر کچھ خرچ نہ کرے “، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! اور کھانا بھی نہیں؟۔ آپ نے فرمایا: ” یہ ہمارے مالوں میں سب سے افضل مال ہے “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الزكاة/حدیث: 670]
اردو حاشہ:
1؎:
پہلی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ بغیر شوہر کی اجازت کے بیوی خرچ نہیں کر سکتی اور اگلی روایت میں اجازت کی قید نہیں، دونوں میں تطبیق اس طرح دی جائے گی کہ اجازت کی دو قسمیں ہیں اجازت قولی اور اجازت حالی، بعض دفعہ شوہر بغیر اجازت کے بیوی کے کچھ دے دینے پر راضی ہوتا ہے جیسے دیہات وغیرہ میں فقیروں کو عورتیں کچھ غلّہ اور آٹا وغیرہ دے دیا کرتی ہیں اور شوہر اس پر ان کی کوئی گرفت نہیں کرتا۔
1؎:
پہلی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ بغیر شوہر کی اجازت کے بیوی خرچ نہیں کر سکتی اور اگلی روایت میں اجازت کی قید نہیں، دونوں میں تطبیق اس طرح دی جائے گی کہ اجازت کی دو قسمیں ہیں اجازت قولی اور اجازت حالی، بعض دفعہ شوہر بغیر اجازت کے بیوی کے کچھ دے دینے پر راضی ہوتا ہے جیسے دیہات وغیرہ میں فقیروں کو عورتیں کچھ غلّہ اور آٹا وغیرہ دے دیا کرتی ہیں اور شوہر اس پر ان کی کوئی گرفت نہیں کرتا۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 670 سے ماخوذ ہے۔