حدیث نمبر: 2292
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَيَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّ أَبِي اجْتَاحَ مَالِي ، فَقَالَ : " أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ " . (حديث موقوف) (حديث مرفوع) وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَوْلَادَكُمْ مِنْ أَطْيَبِ كَسْبِكُمْ فَكُلُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا : میرے والد نے میری دولت ختم کر دی ( اس کے بارے میں فرمائیں ؟ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اور تمہاری دولت دونوں تمہارے والد کے ہیں “ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہاری اولاد تمہاری بہترین کمائی ہے لہٰذا تم ان کے مال میں سے کھاؤ “ ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ باپ اپنے بیٹے کے مال میں ضرورت کے مطابق تصرف کر سکتا ہے اور اگر ماں باپ بیٹے کا مال لے بھی لیں تو بھی بیٹے کو چاہئے کہ وہ ماں باپ سے مقابلہ نہ کرے، نہ ان سے سخت کلامی کرے اور اس وقت کو یاد کرے جب ماں باپ نے اسے محبت سے پالا پوسا تھا، پیشاب و پاخانہ دھویا، پھر کھلایا، پلایا، پڑھایا اور سکھایا، یہ سب احسانات ایسے ہیں کہ اگر ماں باپ کے کام میں بیٹے کا چمڑہ بھی آئے تو ان کا احسان نہ ادا ہو سکے اور یہ سمجھ لے کہ ماں باپ ہی کی رضامندی پر ان کی نجات منحصر ہے، اگر ماں باپ ناراض ہوئے تو دنیا و آخرت دونوں تباہ ہو گی، تجربہ سے معلوم ہوا کہ جن لڑکوں نے ماں باپ کو راضی رکھا ان کو بڑی برکت حاصل ہوئی اور انہوں نے چین سے زندگی بسر کی اور جنہوں نے ماں باپ کے ساتھ بدسلوکی کی وہ ہمیشہ دنیا میں جلتے اور کڑھتے ہی رہے، اگر ماں باپ بیٹے کا مال لے لیں تو کمال خوشی کرنا چاہئے کہ ہماری یہ قسمت کہاں تھی کہ ہمارا روپیہ ماں باپ کے کام آئے یا روپیہ اپنے موقع پر صرف ہوا، اور ماں باپ سے یوں کہنا چاہئے کہ روپیہ تو کیا میرا بدن اور میری جان بھی آپ ہی کی ہے، آپ اگر چاہیں تو مجھ کو بھی بازار میں بیچ لیں،میں آپ کا غلام ہوں۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب التجارات / حدیث: 2292
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 8675 ) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/البیوع 79 ( 3530 ) ، مسند احمد ( 2/179 ) ( صحیح ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 3530 | معجم صغير للطبراني: 648

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3530 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´آدمی کا اپنی اولاد کے مال میں سے کھانا درست ہے۔`
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے پاس مال ہے اور والد بھی ہیں اور میرے والد کو میرے مال کی ضرورت ہے ۱؎ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اور تمہارا مال تمہارے والد ہی کا ہے (یعنی ان کی خبرگیری تجھ پر لازم ہے) تمہاری اولاد تمہاری پاکیزہ کمائی ہے تو تم اپنی اولاد کی کمائی میں سے کھاؤ۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3530]
فوائد ومسائل:
فائدہ۔
اسلامی تعلیمات خاندانی اکائی کو ازحد مظبوط بنانے کی داعی ہیں۔
اولاد پر واجب ہے کہ اپنے والدین کی کفالت کریں۔
اوراسے اپنی سعادت جانیں۔
اور والدین کو بھی بغیر کسی اجازت کے اپنی اولاد کی کمائی سے اپنی لازمی ضروریات پوری کرنے کا حق حاصل ہے۔
مگر ظاہر ہے کہ اس معاملے میں کسی جانب سے بھی افراط وتفریط نہیں ہونی چاہیے۔
اس حدیث سے یہ مفہوم کشید کرنا بالکل جائز نہیں۔
کہ بیٹے کا مال کلی طور پرباپ ہی کا ہے۔
بلکہ اس حد تک جائز ہے کہ اپنی لازمی ضروریات لے لے۔
اللہ کی شریعت میں ان دونوں کی ملکیت اورتصرف علحیدہ علیحدہ ہے۔
اسی بنا پر ان میں وراثت چلتی ہے۔
اگر ملکیت اور تصرف میں فرق نہ ہو تو وراثت کے کوئی معنی نہ ہوں گے۔
حدیث کا مقصد بنیادی لازمی ضروریات کا حاصل کرنا ہے۔
نہ کے اولاد کی کمائی کو بے دردی سے خرچ کرکے اسے اجاڑنا۔
واللہ اعلم۔
نیز یہ کمائی اس صورت میں حلال ہوگی جب اولاد کی کمائی کا مصدر حلال اور طیب ہوگا۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3530 سے ماخوذ ہے۔