حدیث نمبر: 229
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الصَّوَّافُ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ خُنَيْسٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ مِنْ بَعْضِ حُجَرِهِ ، فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ ، فَإِذَا هُوَ بِحَلْقَتَيْنِ إِحْدَاهُمَا يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ وَيَدْعُونَ اللَّهَ ، وَالْأُخْرَى يَتَعَلَّمُونَ وَيُعَلِّمُونَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلٌّ عَلَى خَيْرٍ هَؤُلَاءِ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ وَيَدْعُونَ اللَّهَ ، فَإِنْ شَاءَ أَعْطَاهُمْ ، وَإِنْ شَاءَ مَنَعَهُمْ ، وَهَؤُلَاءِ يَتَعَلَّمُونَ ، وَإِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلِّمًا فَجَلَسَ مَعَهُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن اپنے کسی کمرے سے نکلے اور مسجد میں داخل ہوئے ، آپ نے اس میں دو حلقے دیکھے ، ایک تلاوت قرآن اور ذکرو دعا میں مشغول تھا ، اور دوسرا تعلیم و تعلم میں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دونوں حلقے نیکی کے کام میں ہیں ، یہ لوگ قرآن پڑھ رہے ہیں ، اور اللہ سے دعا کر رہے ہیں ، اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو انہیں دے اور چاہے تو نہ دے ، اور یہ لوگ علم سیکھنے اور سکھانے میں مشغول ہیں ، اور میں تو صرف معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں ، پھر انہیں کے ساتھ بیٹھ گئے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / (أبواب كتاب السنة) / حدیث: 229
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, ضعيف, داودبن الزبرقان:متروك, وشيخه بكر بن خنيس: ضعيف ضعفه الجمهور, و عبد الرحمٰن بن زياد الإفريقي: ضعيف, وللحديث لون آخر عند الدارمي (355), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 382
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 8869 ، ومصباح الزجاجة : 87 ) ، وقد أخرجہ : سنن الدارمی/المقدمة 32 ( 261 ) ( ضعیف ) » ( اس کی سند میں داود ، بکر بن خنیس اور عبد الرحمن بن زیاد افریقی تینوں ضعیف ہیں ، نیز ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الضعیفة ، للالبانی : 11 )
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن دارمي: 360