حدیث نمبر: 2289
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ ثَابِتٍ الْبَزَّارُ ، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ دَاوُدَ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ثَلَاثٌ فِيهِنَّ الْبَرَكَةُ الْبَيْعُ إِلَى أَجَلٍ وَالْمُقَارَضَةُ وَأَخْلَاطُ الْبُرِّ بِالشَّعِيرِ لِلْبَيْتِ لَا لِلْبَيْعِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´صہیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تین چیزوں میں برکت ہے : پہلی یہ کہ مقررہ مدت کے وعدے پر بیع کرنے میں ، دوسری : مضاربت میں ، تیسری : گیہوں اور جو ملانے میں جو کہ گھر کے کھانے کے لیے ہو ، نہ کہ بیچنے کے لیے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب التجارات / حدیث: 2289
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف جدا , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف جدًا, نصر: مجهول،وصالح (بن صهيب بن سنان الرومي): مجهول الحال (تقريب: 7123،2870) وأورده ابن الجوزي في الموضوعات (2/ 248،249), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 461
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 4963 ، ومصباح الزجاجة : 804 ) ( ضعیف جدا ) » ( سند میں صالح صہیب ، عبد الرحمن بن داود اور نصر بن قاسم وغیرہ سب مجہول راوی ہیں ، نیز ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الضعیفة ، للالبانی : 2100 )
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : بلوغ المرام: 765

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´شرکت و مضاربت کا بیان۔`
صہیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین چیزوں میں برکت ہے: پہلی یہ کہ مقررہ مدت کے وعدے پر بیع کرنے میں، دوسری: مضاربت میں، تیسری: گیہوں اور جو ملانے میں جو کہ گھر کے کھانے کے لیے ہو، نہ کہ بیچنے کے لیے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2289]
اردو حاشہ:
فوائد  و مسائل: مقارضہ کے دومفہوم بیان کیے گئے ہیں۔
ایک کسی کو قرض دینا، دوسرا مضاربت کے طریقے پر کاروبار میں شریک ہونا، یعنی ایک شخص کی رقم ہو اور دوسرا کام کرے، اور نفع ان کے درمیان طے شدہ نسبت سے تقسیم کیا جائے۔
یہ کاروبار جائز ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2289 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 765 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´مضاربت کا بیان`
سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین کام بڑے بابرکت ہیں۔ ایک مدت مقررہ تک بیچنا اور مضاربت کرنا اور گندم میں جو ملانا گھر کے لئے، فروخت کرنے کے لئے نہیں۔ اسے ابن ماجہ نے ضعیف سند سے روایت کیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 765»
تخریج:
«أخرجه ابن ماجه، التجارات، باب الشركة والمضاربة، حديث:2289.* عبدالرحيم بن داود "مجهول بالنقل، حديثه غير محفوظ" قاله العقيلي، ونصر مجهول، وصالح مجهول الحال.»
تشریح:
راویٔ حدیث:
«حضرت صہیب رضی اللہ عنہ» ابویحییٰ صہیب بن سنان رومی۔
اصل میں عربی ہیں۔
نمر بن قاسط بن وائل قبیلہ سے تعلق رکھتے ہیں۔
رومیوں نے انھیں بچپن میں قید کر لیا تھا۔
انھی میں نشوونما پائی‘ اس وجہ سے رومی کہلائے۔
ایک قول یہ ہے کہ جب یہ بڑے ہوئے اور سن ِ شعور کو پہنچے تو ان کے ہاں سے بھاگ کر مکہ میں پہنچ گئے اور عبداللہ بن جدعان کے حلیف بن گئے۔
اور ایک قول یہ بھی ہے کہ بنو کلب نے انھیں رومیوں سے خرید لیا اور انھیں مکہ میں لے آئے اور وہاں عبداللہ بن جدعان نے انھیں خرید لیا۔
مشہور صحابی ہیں۔
قدیم الإسلام ہیں۔
اللہ کی راہ میں انھیں بہت اذیتیں دی گئیں‘ پھر مدینہ کی طرف ہجرت کر گئے اور مدینہ منورہ ہی میں ۳۸ ہجری میں وفات پائی۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 765 سے ماخوذ ہے۔