حدیث نمبر: 2284
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ النَّجْرَانِيِّ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ : أُسْلِمُ فِي نَخْلٍ ، قَبْلَ أَنْ يُطْلِعَ ، قَالَ : لَا ، قُلْتُ : لِمَ ، قَالَ : إِنَّ رَجُلًا أَسْلَمَ فِي حَدِيقَةِ نَخْلٍ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَبْلَ أَنْ يُطْلِعَ النَّخْلُ فَلَمْ يُطْلِعِ النَّخْلُ شَيْئًا ذَلِكَ الْعَامَ ، فَقَالَ الْمُشْتَرِي : هُوَ لِي حَتَّى يُطْلِعَ ، وَقَالَ الْبَائِعُ : إِنَّمَا بِعْتُكَ النَّخْلَ هَذِهِ السَّنَةَ ، فَاخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لِلْبَائِعِ : " أَخَذَ مِنْ نَخْلِكَ شَيْئًا " ، قَالَ : لَا ، قَالَ : " فَبِمَ تَسْتَحِلُّ مَالَهُ ارْدُدْ عَلَيْهِ مَا أَخَذْتَ مِنْهُ وَلَا تُسْلِمُوا فِي نَخْلٍ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´نجرانی کہتے ہیں کہ` میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا : کیا میں کسی درخت کے کھجور کی ان کے پھلنے سے پہلے بیع سلم کروں ؟ انہوں نے کہا : نہیں ، میں نے کہا : کیوں ؟ کہا : ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں کھجور کے ایک باغ کے پھلوں میں ان کے پھلنے سے پہلے بیع سلم کی ، لیکن اس سال کھجور کے درخت میں پھل آیا ہی نہیں ، تو خریدار نے کہا : یہ درخت میرے رہیں گے جب تک ان میں کھجور نہ پھلے ، اور بیچنے والے نے کہا : میں نے تو صرف اسی سال کا کھجور تیرے ہاتھ بیچا تھا ، چنانچہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں معاملہ لے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیچنے والے سے کہا : ” کیا اس نے تمہارے کھجور کے درختوں سے کچھ پھل لیے “ ؟ وہ بولا : نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پھر تم کس چیز کے بدلے اس کا مال اپنے لیے حلال کرو گے ، جو تم نے اس سے لیا ہے ، اسے واپس کرو اور آئندہ کھجور کے درختوں میں بیع سلم اس وقت تک نہ کرو جب تک اس کے پھل استعمال کے لائق نہ ہو جائیں “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب التجارات / حدیث: 2284
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, سنن أبي داود (3467), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 460
تخریج حدیث « سنن ابی داود/البیوع 58 ( 3467 ) ، ( تحفة الأشراف : 8595 ) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/البیوع 21 ( 49 ) ، مسند احمد ( 2/25 ، 49 ، 51 ، 58 ، 144 ) ( ضعیف ) » ( اس کی سند میں نجرانی مبہم راوی ہے )
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 3467

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3467 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´کسی خاص درخت کے پھل کی بیع سلم کرنا کیسا ہے؟`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے ایک شخص سے کھجور کے ایک خاص درخت کے پھل کی بیع سلف کی، تو اس سال اس درخت میں کچھ بھی پھل نہ آیا تو وہ دونوں اپنا جھگڑا لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیچنے والے سے فرمایا: تم کس چیز کے بدلے اس کا مال اپنے لیے حلال کرنے پر تلے ہوئے ہو؟ اس کا مال اسے لوٹا دو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھجوروں میں جب تک وہ قابل استعمال نہ ہو جائیں سلف نہ کرو۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3467]
فوائد ومسائل:

یہ روایت سندا ضعیف ہے۔
تاہم مسئلہ یہی ہے کہ تاجر اگر مطلوبہ مال مہیا کرنے سے عاجز رہے تو صرف وصول کردہ قیمت واپس کی جائے گی۔


خاص درخت یا باغ کی بیع سلم اس لئے روک دیا گیا کہ اس میں نقصان کا پہلو موجود ہے۔
پتہ نہیں اس پر پھل آئے گا یا نہیں۔
کم آئے گا یا زیادہ؟ اس لئے عمومی معاملہ ہونا چاہیے نہ کہ خاص۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3467 سے ماخوذ ہے۔