سنن ابن ماجه
كتاب التجارات— کتاب: تجارت کے احکام و مسائل
بَابُ : السَّلَفِ فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ باب: متعین ناپ تول میں ایک مقررہ مدت کے وعدے پر بیع سلف کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْزَةَ بْنِ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّ بَنِي فُلَانٍ أَسْلَمُوا لِقَوْمٍ مِنْ الْيَهُودِ ، وَإِنَّهُمْ قَدْ جَاعُوا ، فَأَخَافُ أَنْ يَرْتَدُّوا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ عِنْدَهُ " ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْيَهُودِ : عِنْدِي كَذَا وَكَذَا لِشَيْءٍ قَدْ سَمَّاهُ أُرَاهُ ، قَالَ : ثَلاثُ مِائَةِ دِينَارٍ بِسِعْرِ كَذَا وَكَذَا مِنْ حَائِطِ بَنِي فُلَانٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بِسِعْرِ كَذَا وَكَذَا إِلَى أَجَلِ كَذَا وَكَذَا وَلَيْسَ مِنْ حَائِطِ بَنِي فُلَانٍ " .
´عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اور اس نے آ کر عرض کیا : فلاں قبیلہ کے یہودی مسلمان ہو گئے ہیں ، اور وہ بھوک میں مبتلا ہیں ، مجھے ڈر ہے کہ کہیں وہ مرتد نہ ہو جائیں ، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کسی کے پاس کچھ نقدی ہے “ ( کہ وہ ہم سے بیع سلم کرے ) ؟ ایک یہودی نے کہا : میرے پاس اتنا اور اتنا ہے ، اس نے کچھ رقم کا نام لیا ، میرا خیال ہے کہ اس نے کہا : میرے پاس تین سو دینار ہیں ، اس کے بدلے میں بنی فلاں کے باغ اور کھیت سے اس اس قیمت سے غلہ لوں گا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قیمت اور مدت کی تعیین تو منظور ہے لیکن فلاں کے باغ اور کھیت کی جو شرط تم نے لگائی ہے وہ منظور نہیں “ ۱؎ ۔