سنن ابن ماجه
(أبواب كتاب السنة)— (ابواب کتاب: سنت کی اہمیت و فضیلت)
بَابُ : فَضْلِ الْعُلَمَاءِ وَالْحَثِّ عَلَى طَلَبِ الْعِلْمِ باب: علماء کے فضائل و مناقب اور طلب علم کی ترغیب و تشویق۔
حدیث نمبر: 228
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي عَاتِكَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَلَيْكُمْ بِهَذَا الْعِلْمِ قَبْلَ أَنْ يُقْبَضَ ، وَقَبْضُهُ أَنْ يُرْفَعَ ، وَجَمَعَ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ الْوُسْطَى وَالَّتِي تَلِي الْإِبْهَامَ هَكَذَا " ، ثُمَّ قَالَ : " الْعَالِمُ ، وَالْمُتَعَلِّمُ شَرِيكَانِ فِي الْأَجْرِ ، وَلَا خَيْرَ فِي سَائِرِ النَّاسِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اس علم دین کو اس کے قبض کیے جانے سے پہلے حاصل کر لو ، اور اس کا قبض کیا جانا یہ ہے کہ اسے اٹھا لیا جائے “ ، پھر آپ نے بیچ والی اور شہادت کی انگلی دونوں کو ملایا ، اور فرمایا : ” عالم اور متعلم ( سیکھنے اور سکھانے والے ) دونوں ثواب میں شریک ہیں ، اور باقی لوگوں میں کوئی خیر نہیں ہے “ ۔