حدیث نمبر: 228
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي عَاتِكَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَلَيْكُمْ بِهَذَا الْعِلْمِ قَبْلَ أَنْ يُقْبَضَ ، وَقَبْضُهُ أَنْ يُرْفَعَ ، وَجَمَعَ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ الْوُسْطَى وَالَّتِي تَلِي الْإِبْهَامَ هَكَذَا " ، ثُمَّ قَالَ : " الْعَالِمُ ، وَالْمُتَعَلِّمُ شَرِيكَانِ فِي الْأَجْرِ ، وَلَا خَيْرَ فِي سَائِرِ النَّاسِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اس علم دین کو اس کے قبض کیے جانے سے پہلے حاصل کر لو ، اور اس کا قبض کیا جانا یہ ہے کہ اسے اٹھا لیا جائے “ ، پھر آپ نے بیچ والی اور شہادت کی انگلی دونوں کو ملایا ، اور فرمایا : ” عالم اور متعلم ( سیکھنے اور سکھانے والے ) دونوں ثواب میں شریک ہیں ، اور باقی لوگوں میں کوئی خیر نہیں ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / (أبواب كتاب السنة) / حدیث: 228
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف جدًا, علي بن يزيد: ضعيف, و عثمان بن أبي العاتكة: ضعيف, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 382
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 4918 ، ومصباح الزجاجة : 86 ) ، وقد أخرجہ : سنن الدارمی/المقدمة 26 ( 246 ) ( ضعیف ) » ( اس کی سند میں علی بن یزید الہانی سخت ضعیف راوی ہے ، اور عثمان بن أبی عاتکہ کی علی بن یزید سے روایت میں ضعف ہے ، اور قاسم بن عبدالرحمن الدمشقی بھی متکلم فیہ راوی ہیں ، خلاصہ یہ کہ یہ سند ضعیف ہے ، بلکہ علماء کے نزدیک یہ سند ضعف میں مشہور ہے ، نیز ملاحظہ ہو : الإرواء : 2/143 )