حدیث نمبر: 2278
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي خَيْرَةَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لَا يَبْقَى مِنْهُمْ أَحَدٌ إِلَّا آكِلُ الرِّبَا فَمَنْ لَمْ يَأْكُلْ أَصَابَهُ مِنْ غُبَارِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یقیناً لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ کوئی ایسا نہ بچے گا جس نے سود نہ کھایا ہو ، جو نہیں کھائے گا اسے بھی اس کا غبار لگ جائے گا “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب التجارات / حدیث: 2278
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, سنن أبي داو د (3331) نسائي (4460), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 460
تخریج حدیث « سنن ابی داود/البیوع 3 ( 3331 ) ، سنن النسائی/البیوع 2 ( 4460 ) ، ( تحفة الأشراف : 12241 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 2/494 ) ( ضعیف ) » ( سعید بن أبی خیرہ مقبول راوی ہیں ، یعنی متابعت کی موجود گی میں ، اور متابع کوئی نہیں ہے ، اس لئے لین الحدیث ہیں ، یعنی کمزوری اور ضعیف ہیں ، حسن بصری کا سماع ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں ہے )
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 4460 | سنن ابي داود: 3331

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3331 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´شبہات سے بچنے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک زمانہ ایسا آئے گا جس میں سود کھانے سے کوئی بچ نہ سکے گا اور اگر نہ کھائے گا تو اس کی بھاپ کچھ نہ کچھ اس پر پڑ کر ہی رہے گی ۱؎۔‏‏‏‏ ابن عیسیٰ کی روایت میں «أصابه من بخاره» کی جگہ «أصابه من غباره» ہے، یعنی اس کی گرد کچھ نہ کچھ اس پر پڑ کر ہی رہے گی۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3331]
فوائد ومسائل:
یہ روایت سندا ضعیف ہے۔
اور صحیح حدیث میں ہے کہ قیامت تک ایک گروہ ایسا ضرور باقی رہے گا جو حق پر غالب اور کاربند رہے گا مذکورہ بالا روایت میں عمومی احوال معیشت کی طرف اشارہ ہے۔
جس کا اب عملی مشاہدہ ہو رہا ہے۔
کہ پوری معیشت کو سود کے شکنجے میں جکڑ دیا گیا ہے۔
اور اس سے بچنا انتہائی عظیمت کا کام ہے۔
اور پوری طرح بچنے والوں کی تعداد بہت کم ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3331 سے ماخوذ ہے۔