حدیث نمبر: 2275
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ الصَّيْرَفِيُّ أَبُو حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ زُبَيْدٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الرِّبَا ثَلَاثَةٌ وَسَبْعُونَ بَابًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سود کے تہتر دروازے ہیں “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب التجارات / حدیث: 2275
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, إبراھيم النخعي مدلس وعنعن, اضافه از معاذ: وله شاھد موقوف صحيح عند المروزي في السنة (201،وسنده صحيح) والخلال في السنة (1496) وھو يغني عنه،لعله حكمًا مرفوعًا،والله اعلم, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 460
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 9561 ، ومصباح الزجاجة : 800 ) ( صحیح ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : بلوغ المرام: 696

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´حرمت سود میں وارد وعید کا بیان۔`
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سود کے تہتر دروازے ہیں۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2275]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
سود کی بہت سی قسمیں ہیں لہٰذا لین دین میں انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے کہ سود کا لین دین نہ ہو جائے۔

(2)
علماء کرام کو چاہیے کہ کاروبار کی موجودہ صورتوں کا شرعی تعلیمات کی روشنی میں جائزہ لے کر مسلمان عوام کی رہنمائی کریں تاکہ وہ نادانستہ طور پر سود خوری کا ارتکاب نہ کر لیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2275 سے ماخوذ ہے۔