حدیث نمبر: 2271
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، وَأَبُو خَالِدٍ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا بَأْسَ الْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ وَاحِدًا بِاثْنَيْنِ يَدًا بِيَدٍ ، وَكَرِهَهُ نَسِيئَةً " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک حیوان کو دو حیوان کے بدلے نقد بیچنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ادھار بیچنے کو ناپسند کیا “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب التجارات / حدیث: 2271
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ترمذي (1238), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 459
تخریج حدیث سنن الترمذی/البیوع 21 ( 1238 ) ، ( تحفة الأشراف : 2676 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 3/310 ، 380 ، 382 ) ( صحیح ) » ( ترمذی نے حدیث کی تحسین کی ہے ، جب کہ حجاج بن أرطاہ ضعیف ہیں ، اور ابوزبیر مدلس اور روایت عنعنہ سے کی ہے ، تو یہ تحسین شواہد کی وجہ سے ہے ، بلکہ صحیح ہے ، تفصیل کے لئے دیکھئے الإرواء : 2416 ) ۔
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 1238

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´حیوان کو حیوان کے بدلے ادھار بیچنے کی ممانعت۔`
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک حیوان کو دو حیوان کے بدلے نقد بیچنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ادھار بیچنے کو ناپسند کیا۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2271]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
جانور کا جانور سے تبادلہ جائز ہے۔

(2)
جانور کا جانور سے تبادلہ دونوں طرف سے فوری ادائیگی کی صورت میں ہونا چاہیے۔

(3)
جانور کا جانور سے تبادلہ کرنے میں برابری ضروری نہیں بلکہ اعلیٰ نسل کی ایک گائے کےعوض ادنیٰ قسم کی دو گائیں دی جا سکتی ہیں، یا اچھی نسل کی ایک بکری دے کر ادنیٰ قسم کی دو بکریاں لی جا سکتی ہیں۔

(4)
مذکورہ روایت کی بابت ہمارے فاضل محقق لکھتے ہیں کہ یہ روایت سنداً ضعیف ہے، البتہ سابقہ روایت اس سےکفایت کرتی ہے، علاوہ ازیں دیگر محققین نے بھی اسے صحیح اور حسن قرار دیا ہے لہٰذا مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود قابل حجت اور قابل عمل ہے۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعة الحديثة مسند الإامام أحمد: 22/ 234، 235، والصحيحة، رقم: 2416)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2271 سے ماخوذ ہے۔