حدیث نمبر: 226
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، قَالَ : أَتَيْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ الْمُرَادِيَّ ، فَقَالَ : مَا جَاءَ بِكَ ؟ قُلْتُ : أُنْبِطُ الْعِلْمَ ، قَال : فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَا مِنْ خَارِجٍ خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ فِي طَلَبِ الْعِلْمِ إِلَّا وَضَعَتْ لَهُ الْمَلَائِكَةُ أَجْنِحَتَهَا رِضًا بِمَا يَصْنَعُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´زر بن حبیش کہتے ہیں کہ` میں صفوان بن عسال مرادی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، انہوں نے پوچھا : کس لیے آئے ہو ؟ میں نے کہا : علم حاصل کرنے کے لیے ، صفوان رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” جو شخص اپنے گھر سے علم حاصل کرنے کے لیے نکلتا ہے تو فرشتے اس کے اس عمل سے خوش ہو کر اس کے لیے اپنے بازو بچھا دیتے ہیں “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / (أبواب كتاب السنة) / حدیث: 226
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 4955 ، ومصباح الزجاجة : 84 ) ، مسند احمد ( 4/420 ) ( حسن صحیح ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن دارمي: 368 | مسند الحميدي: 905

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 905 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
905- زر بن حبیش بیان کرتے ہیں: میں سیدنا صفوان بن عسال مرادی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا انہوں نے مجھ سے دریافت کیا: تم کس لیے آئے ہو؟ میں نے عرض کی: علم کے حصول کے لیے۔ ا نہوں نے فرمایا: طالب علم کی طلب سے راضی ہو کر فرشتے اپنے پر اس کے لیے بچھا دیتے ہیں۔ میں نے عرض کی: پاخانے اور پیشاب کے بعد موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں میرے ذہن میں کچھ الجھن ہے۔ آپ ایک ایسے فرد ہیں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے تعلق رکھتے ہیں، تو میں آپ سے اس بارے میں دریافت کرنے کے لیے آیا ہوں کہ آپ نے اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے جواب۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:905]
فائدہ:
اس حدیث میں طالب علم کی فضیلت بیان ہوئی ہے کہ فرشتے اس کے لیے پر بچھاتے ہیں۔، نیز موزوں پر مسح کرنا ثابت ہے، مسافر تین دن اور تین راتوں تک موزوں پر مسح کر سکتا ہے، اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ ہر اس نیند سے وضوٹوٹ جا تا ہے جس کو نیند کہا جا سکتا ہے، خواہ وہ تھوڑی ہو یا زیادہ، کیونکہ اس حدیث میں نیند کا ذکر پیشاب اور پاخانے کے ساتھ کیا گیا ہے، جس طرح پیشاب اور پاخانہ تھوڑا خارج ہو یا زیادہ، اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، اسی طرح نیند تھوڑی ہو یا زیادہ اس سے بھی وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ نیز جس بھی حالت میں نیند آ جائے، وضو ٹوٹ جاتا ہے، جس طرح پیشاب اور پاخانہ جس حالت میں بھی نکل جائے، وضو ٹوٹ جا تا ہے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 904 سے ماخوذ ہے۔