حدیث نمبر: 2255
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ ، عَنْ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْفِضَّةَ بِالْفِضَّةِ ، وَالذَّهَبَ بِالذَّهَبِ ، وَالشَّعِيرَ بِالشَّعِيرِ ، وَالْحِنْطَةَ بِالْحِنْطَةِ مِثْلًا بِمِثْلٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” چاندی کو چاندی سے ، اور سونے کو سونے سے ، اور جو کو جو سے اور گیہوں کو گیہوں سے برابر برابر بیچیں “ ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: یعنی ان میں تفاضل (کمی بیشی) درست نہیں ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب التجارات / حدیث: 2255
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «صحیح مسلم/المساقاة 15 ( 1588 ) ، سنن النسائی/البیوع 44 ( 4573 ) ، ( تحفة الأشراف : 13625 ) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/البیوع 12 ( 20 ) ، مسند احمد ( 2/232 ) ( صحیح ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 1588 | سنن نسائي: 4563 | موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 515

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1588 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کھجور، کھجور کے عوض، گندم، گندم کے عوض، جو، جو کے عوض اور نمک نمک کے عوض، برابر، برابر اور نقد بنقد ہوں گے، تو جس نے زیادہ دیا یا زیادہ طلب کیا، تو اس نے سودی لین دین کیا، الا یہ کہ ان کی اقسام (جنس) بدل جائیں۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:4066]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
ألوان، لون کی جمع ہے، انواع و اقسام کو کہتے ہیں۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1588 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 4563 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´کھجور کے بدلے کھجور بیچنے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھجور کے بدلے کھجور، گیہوں کے بدلے گی ہوں، جَو کے بدلے جَو اور نمک کے بدلے نمک میں خرید و فروخت نقدا نقد ہے، جس نے زیادہ دیا، یا زیادہ لیا تو اس نے سود لیا، سوائے اس کے کہ جنس بدل جائے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4563]
اردو حاشہ: (1) امام نسائی رحمہ اللہ کا مقصد یہ ہے کہ کھجور کا کھجور کے عوض سودا جائز ہے بشر طیکہ دونوں طرف سے نقد بہ نقد اور برابری ہو۔
(2) اس حدیث مبارکہ سے یہ مسئلہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حدیث میں مذکورہ اشیاء کی ایک دوسرے کے عوض بیع جائز ہے بشرطیکہ وہ اشیاء برابر مقدار میں ہوں، سودا نقد ہو اور اسی مجلس میں دونوں فریق چیز کو اپنے اپنے قبضے میں لے لیں۔
(3) سود لینے سے، صرف لینے والا ہی گناہ گار نہیں ہوتا بلکہ دینے والا بھی مجرم ہوتا ہے، لہٰذا سود لینے والے اور دینے والے دونوں کو اس سے بچنا چاہیے۔
(4) حدیث مبارکہ سے یہ مسئلہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ جنس بدل جائے تو کمی بیشی جائز ہے۔ امام نو وی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جنس کے مختلف ہونے کی صورت میں بھی تقابض (دونوں فریقوں کا چیز قبضے میں لینا) ضروری اور و اجب ہے۔ اس پر تقریباََ تمام اہل علم کا اتفاق ہے۔
(5) جنسیں بدل جائیں مثلاََ: کھجور کا سودا گندم کے ساتھ، گندم کا جو کے ساتھ، جو کا نمک کے ساتھ۔ ایسی صورت میں کمی بیشی جائز ہے، مثلاََ: دوکلو گندم دے کر نصف کلو کھجور لے تو کوئی حرج نہیں، البتہ سودا نقد ہونا چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4563 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: موطا امام مالك رواية ابن القاسم / حدیث: 515 کی شرح از حافظ زبیر علی زئی ✍️
´خرید و فروخت برابر برابر ہے`
«. . . مالك عن موسى بن ابى تميم عن سعيد بن يسار عن ابى هريرة ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: الدينار بالدينار، والدرهم بالدرهم، لا فضل بينهما . . .»
. . . سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دینار دینار کے بدلے اور درہم درہم کے بدلے (برابر برابر ہوں) ان کے درمیان کوئی اضافہ نہ ہو . . . [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 515]
تخریج الحدیث: [وأخرجه مسلم 588/85، من حديث ما لك به]
تفقه:
➊ سيدنا عبدالله بن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک سنار نے پوچھا: میں سونا ڈھال کر (زیور بناتا ہوں) پھر اس کے وزن سے زیادہ قیمت پر دیتا ہوں اور یہ زیادہ قیمت (اضافہ) اپنی محنت کے بدلے میں لیتا ہوں؟ تو انہوں نے اس سنارکو منع کیا۔ وہ بار بار پوچھتا رہا اور آپ اسے منع کرتے رہے حتیٰ کہ سواری پر سوار ہونے کے لئے مسجد کے دروازے تک پہنچ گئے پھر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: دینار دینار کے بدلے اور درہم درہم کے بدلے، اس میں کوئی زیادتی نہ ہو، یہی ہم سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عہد و پیان ہے اور یہی ہماراتم سے عہد و پیان ہے۔ [الموطا 633/2 ح 1362، وسنده صحيح]
● نیز دیکھتے [الموطأ حديث: 153]
➋ سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے ایک دفعہ سونے چاندی کا ایک برتن، اس کے وزن سے زیادہ قیمت پر بیچا تو سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے انھیں کہا: میں نے رسول اللہ کو اس سے منع کرتے ہوئے سنا ہے الا یہ کہ وہ برابر برابر ہو۔ معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے خیال میں اس میں کوئی حرج نہیں ہے تو ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے کہا: معاویہ کے معاملے میں کون میرا عذر مانتا ہے، میں اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سناتا ہوں اور وہ مجھے اپنی رائے سناتا ہے۔ میں اس علاقے میں ہی نہیں رہوں گا جس میں(اے معاویہ!) تم رہتے ہو۔ پھر ابوالدرداء رضی اللہ عنہ ((مدینہ میں) عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور یہ قصہ سنایا تو انہوں نے معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف لکھ بھیجا: ایسی خرید و فروخت دوبارہ نہ کرومگر برابر برابر۔ [الموطا 634/2 ح 1364، وسنده صحيحي،]
●اس قسم کے اور بھی بہت سے آثار موطا امام مالک میں موجود ہیں جن سےاس قسم کے سودے کی ممانعت ثابت ہوتی ہے۔
➌ سود کی بہت کی قسمیں ہیں جن میں بہت سے لوگ پھنسے ہوئے ہیں۔
➍ نیز دیکھئے [الموطأ ح 259، البخاري 2177، و مسلم 1584]
درج بالا اقتباس موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 192 سے ماخوذ ہے۔