حدیث نمبر: 2251
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ لَيْثٍ صَاحِبُ الْكَرَابِيسِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : قَالَ لِي الْعَدَّاءُ بْنُ خَالِدِ بْنِ هَوْذَةَ : " أَلَا نُقْرِئُكَ كِتَابًا كَتَبَهُ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قُلْتُ : بَلَى . فَأَخْرَجَ لِي كِتَابًا ، فَإِذَا فِيهِ : " هَذَا مَا اشْتَرَى الْعَدَّاءُ بْنُ خَالِدِ بْنِ هَوْذَةَ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَرَى مِنْهُ عَبْدًا ، أَوْ أَمَةً لَا دَاءَ وَلَا غَائِلَةَ وَلَا خِبْثَةَ بَيْعَ الْمُسْلِمِ لِلْمُسْلِمِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبدالمجید بن وہب کہتے ہیں کہ` مجھ سے عداء بن خالد بن ہوذہ رضی اللہ عنہ نے کہا : کیا میں تم کو وہ تحریر پڑھ کر نہ سناؤں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے لکھی تھی ؟ میں نے کہا : کیوں نہیں ؟ ضرور سنائیں ، تو انہوں نے ایک تحریر نکالی ، میں نے جو دیکھا تو اس میں لکھا تھا : ” یہ وہ ہے جو عداء بن خالد بن ہوذہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے خریدا ، عداء نے آپ سے ایک غلام یا ایک لونڈی خریدی ، اس میں نہ تو کوئی بیماری ہے ، نہ وہ چوری کا مال ہے ، اور نہ وہ مال حرام ہے ، مسلمان سے مسلمان کی بیع ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب التجارات / حدیث: 2251
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث « صحیح البخاری/البیوع 19 ( 2078 تعلیقاً ) ، سنن الترمذی/ البیوع 8 ( 1216 ) ، ( تحفة الأشراف : 9848 ) ( حسن ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 1216

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´غلام یا لونڈی خریدنے کا بیان۔`
عبدالمجید بن وہب کہتے ہیں کہ مجھ سے عداء بن خالد بن ہوذہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا میں تم کو وہ تحریر پڑھ کر نہ سناؤں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے لکھی تھی؟ میں نے کہا: کیوں نہیں؟ ضرور سنائیں، تو انہوں نے ایک تحریر نکالی، میں نے جو دیکھا تو اس میں لکھا تھا: یہ وہ ہے جو عداء بن خالد بن ہوذہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے خریدا، عداء نے آپ سے ایک غلام یا ایک لونڈی خریدی، اس میں نہ تو کوئی بیماری ہے، نہ وہ چوری کا مال ہے، اور نہ وہ مال حرام ہے، مسلمان سے مسلمان کی بیع ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2251]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
قیمتی چیز کی خرید وفروخت کے وقت تحریر لکھ لینی چاہیے۔

(2)
’’غلام یا لونڈی خریدی۔‘‘
یعنی تحریر میں غلام کا لفظ تھا یا لونڈی کا۔
یہ شک عباد بن لیث کی طرف سے ہے جو امام ابن ماجہ کےاستاد کےاستاد ہیں۔

(3) (غائلة)
کا یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ اسے بھاگ جانے، چوری یا زنا کرنے کی یا ایسی کوئی دوسری بری عادت نہیں، اور یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ وہ چوری کا مال نہیں اور یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ بیچنے والا غلام کا عیب نہیں چھپا رہا۔

(4) (خبشة)
کامطلب حرام بھی بیان کیا گیا ہے اور اخلاقی خرابی بھی۔

(5)
مسلمان کی مسلمان سے بیع کا مطلب یہ ہے کہ یہ بیع ان تمام اصول وضوابط کے تحت شمار ہو گی جو اسلامی قوانین میں موجود ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2251 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1216 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´خرید و فروخت کے شرائط لکھ لینے کا بیان۔`
عبدالمجید بن وہب کہتے ہیں کہ مجھ سے عداء بن خالد بن ھوذہ نے کہا: کیا میں تمہیں ایک تحریر نہ پڑھاؤں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے لکھی تھی؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، ضرور پڑھائیے، پھر انہوں نے ایک تحریر نکالی، (جس میں لکھا تھا) یہ بیع نامہ ہے ایک ایسی چیز کا جو عداء بن خالد بن ھوذہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے خریدی ہے ، انہوں نے آپ سے غلام یا لونڈی کی خریداری اس شرط کے ساتھ کی کہ اس میں نہ کوئی بیماری ہو، نہ وہ بھگیوڑو ہو اور نہ حرام مال کا ہو، یہ مسلمان کی مسلمان سے بیع ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب البيوع/حدیث: 1216]
اردو حاشہ:
وضاحت: 1 ؎: اس حدیث سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ نبی اکرمﷺکی حیات طیبہ میں تحریروں کا رواج عام تھا اورمختلف موضوعات پراحادیث لکھی جاتی تھیں۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1216 سے ماخوذ ہے۔