سنن ابن ماجه
كتاب التجارات— کتاب: تجارت کے احکام و مسائل
بَابُ : مَنْ بَاعَ عَيْبًا فَلْيُبَيِّنْهُ باب: بیچتے وقت خراب چیز کے عیب کو ظاہر کر دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2246
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَيُّوبَ يُحَدِّثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شُمَاسَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ بَاعَ مِنْ أَخِيهِ بَيْعًا فِيهِ عَيْبٌ إِلَّا بَيَّنَهُ لَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” مسلمان مسلمان کا بھائی ہے ، کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی کے ہاتھ کوئی ایسی چیز بیچے جس میں عیب ہو ، مگر یہ کہ وہ اس کو اس سے بیان کر دے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: عیب بیان کر دینے کے بعد خریدار اس مال کو خریدے تو اس کو پھیرنے کا اختیار نہ ہو گا، اگر عیب نہ بیان کرے تو اختیار ہو گا، جب عیب معلوم ہو تو اس کو پھیر دے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´بیچتے وقت خراب چیز کے عیب کو ظاہر کر دینے کا بیان۔`
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ” مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی کے ہاتھ کوئی ایسی چیز بیچے جس میں عیب ہو، مگر یہ کہ وہ اس کو اس سے بیان کر دے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2246]
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ” مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی کے ہاتھ کوئی ایسی چیز بیچے جس میں عیب ہو، مگر یہ کہ وہ اس کو اس سے بیان کر دے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2246]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
ہرمسلمان کو دوسرے مسلمان کا خیر خواہ ہونا چاہیے۔
(2)
سودے میں اگر کوئی عیب ہوتو اسے بیان کر دینا چاہیے ہو سکتا ہے جس مقصد کےلیے وہ خریدنا چاہتا ہے اس کے لیے وہ عیب اہمیت نہ رکھتا ہو۔
(3)
نکمی چیز کے لیے اعلی ٰچیز کی قیمت طلب نہیں کرنی چاہیے۔
(4)
عیب بیان کرنا دیانتداری کا جز ہے اور مسلمان کی ایک اہم خوبی دیانت داری ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
ہرمسلمان کو دوسرے مسلمان کا خیر خواہ ہونا چاہیے۔
(2)
سودے میں اگر کوئی عیب ہوتو اسے بیان کر دینا چاہیے ہو سکتا ہے جس مقصد کےلیے وہ خریدنا چاہتا ہے اس کے لیے وہ عیب اہمیت نہ رکھتا ہو۔
(3)
نکمی چیز کے لیے اعلی ٰچیز کی قیمت طلب نہیں کرنی چاہیے۔
(4)
عیب بیان کرنا دیانتداری کا جز ہے اور مسلمان کی ایک اہم خوبی دیانت داری ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2246 سے ماخوذ ہے۔