حدیث نمبر: 2225
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ أَبِي دَاوُدَ ، عَنْ أَبِي الْحَمْرَاءِ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِجَنَبَاتِ رَجُلٍ عِنْدَهُ طَعَامٌ فِي وِعَاءٍ ، فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِيهِ ، فَقَالَ : " لَعَلَّكَ غَشَشْتَهُ مَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوالحمراء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، آپ ایک شخص کے پاس سے گزرے جس کے پاس ایک برتن میں گیہوں تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اس گیہوں میں ڈالا پھر فرمایا : ” شاید تم نے دھوکا دیا ہے ، جو ہمیں دھوکا دے تو وہ ہم میں سے نہیں ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب التجارات / حدیث: 2225
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف جدا , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف جدًا, أبو داود الأعمي متھم بالكذب, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 458
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 11889 ، ومصباح الزجاجة : 781 ) ( ضعیف جدا ) » ( سند میں ابوداؤد نفیع بن الحارث الاعمی متروک الحدیث راوی ہیں ، امام+بخاری نے ابوالحمراء کے ترجمہ میں کہا کہ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ صحابی ہیں ، ان کی حدیث صحیح نہیں ہے ، یعنی ابوداؤد الاعمی کے متروک الحدیث ہونے کی وجہ سے ، نیز ملاحظہ ہو : تہذیب الکمال للمزی 33/ 258 ) ۔

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´دھوکا دینا منع ہے۔`
ابوالحمراء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ ایک شخص کے پاس سے گزرے جس کے پاس ایک برتن میں گیہوں تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اس گیہوں میں ڈالا پھر فرمایا: " شاید تم نے دھوکا دیا ہے، جو ہمیں دھوکا دے تو وہ ہم میں سے نہیں ہے۔‏‏‏‏" [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2225]
اردو حاشہ:
فائدہ: یہ روایت ضعیف ہے، گویا یہ قصہ صحیح نہیں، تاہم ’’جس نے ہمیں دھوکا دیا، وہ ہم میں سے نہیں۔‘‘
یہ جملہ دوسری صحیح سند ثابت ہے، جیسے صحیح مسلم میں مروی ہے۔ دیکھیے: (صحيح مسلم، الإيمان، باب قول النبيﷺ من غشنا فليس منا، حديث: 101)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2225 سے ماخوذ ہے۔