سنن ابن ماجه
كتاب التجارات— کتاب: تجارت کے احکام و مسائل
بَابُ : الرُّجْحَانِ فِي الْوَزْنِ باب: وزن کے وقت پلڑا جھکا کر (زیادہ) تولنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2221
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ مَالِكًا أَبَا صَفْوَانَ بْنَ عُمَيْرَةَ ، قَالَ : " بِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِجْلَ سَرَاوِيلَ قَبْلَ الْهِجْرَةِ فَوَزَنَ لِي ، فَأَرْجَحَ لِي " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سماک بن حرب کہتے ہیں کہ` میں نے مالک ابوصفوان بن عمیرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ ہجرت سے پہلے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ ایک پاجامہ بیچا ، آپ نے مجھے قیمت تول کر دی ، اور جھکا کر دی ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: ان حدیثوں سے معلوم ہوا ہے کہ آپ ﷺنے پائجامہ قیمتاً خریدا، اور ظاہر یہ ہے کہ پہننے کے لئے خریدا، لیکن کسی صحیح حدیث سے صراحۃ یہ ثابت نہیں ہے کہ آپ نے پائجامہ پہنا، اور جس روایت میں یہ ذکر ہے کہ آپ نے پائجامہ پہنا، اس کو لوگوں نے موضوع کہا ہے۔ (انجاح الحاجۃ)۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´وزن کے وقت پلڑا جھکا کر (زیادہ) تولنے کا بیان۔`
سماک بن حرب کہتے ہیں کہ میں نے مالک ابوصفوان بن عمیرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ ہجرت سے پہلے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ ایک پاجامہ بیچا، آپ نے مجھے قیمت تول کر دی، اور جھکا کر دی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2221]
سماک بن حرب کہتے ہیں کہ میں نے مالک ابوصفوان بن عمیرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ ہجرت سے پہلے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ ایک پاجامہ بیچا، آپ نے مجھے قیمت تول کر دی، اور جھکا کر دی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2221]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
سَرَاویل کا ترجمہ شلوار یا پاجامہ دونوں طرح درست ہے۔
مختلف علاقوں اس کی شکل و صورت میں فرق کی بنا پر اس کا نام بھی مختلف ہو سکتا ہے۔
(2)
خریدو فروخت میں حسن اخلاق کو مد نظر رکھنا چاہیے۔
فوائد و مسائل:
(1)
سَرَاویل کا ترجمہ شلوار یا پاجامہ دونوں طرح درست ہے۔
مختلف علاقوں اس کی شکل و صورت میں فرق کی بنا پر اس کا نام بھی مختلف ہو سکتا ہے۔
(2)
خریدو فروخت میں حسن اخلاق کو مد نظر رکھنا چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2221 سے ماخوذ ہے۔