سنن ابن ماجه
كتاب التجارات— کتاب: تجارت کے احکام و مسائل
بَابُ : بَيْعِ الثِّمَارِ سِنِينَ وَالْجَائِحَةِ باب: کئی سال کے لیے پھلوں کے بیچنے اور پھلوں کو لاحق ہونے والی آفات کا بیان۔
حدیث نمبر: 2218
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَتِيقٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ بَيْعِ السِّنِينَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی سال کے لیے ( پھلوں کی ) بیع کرنے سے منع فرمایا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´کئی سال کے لیے پھلوں کے بیچنے اور پھلوں کو لاحق ہونے والی آفات کا بیان۔`
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی سال کے لیے (پھلوں کی) بیع کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2218]
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی سال کے لیے (پھلوں کی) بیع کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2218]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
کئی سال کی بیع سے مراد یہ ہے، مثلاً آئندہ دو تین سال کا پھل پہلے ہی بیچ کر قیمت وصول کر لے یہ منع ہے۔
(2)
اس کی ممانعت میں یہ حکمت ہے کہ یہ معلوم نہیں ہو سکتا کہ آئندہ سالوں میں پیدوار کیسی ہوگی، ہوگی بھی یا نہیں۔
یہ بھی ممکن ہے کہ پھل آ کر تباہ ہو جائے اور خریدار کی رقم ضائع ہو جائے۔
اس لحاظ سے یہ بیع غرر (دھوکے کی بیع)
میں شامل ہے۔
(3)
بیع غرر کی تفصیل کے لیے دیکھیے، حدیث: 2194 تا 2197۔
فوائد و مسائل:
(1)
کئی سال کی بیع سے مراد یہ ہے، مثلاً آئندہ دو تین سال کا پھل پہلے ہی بیچ کر قیمت وصول کر لے یہ منع ہے۔
(2)
اس کی ممانعت میں یہ حکمت ہے کہ یہ معلوم نہیں ہو سکتا کہ آئندہ سالوں میں پیدوار کیسی ہوگی، ہوگی بھی یا نہیں۔
یہ بھی ممکن ہے کہ پھل آ کر تباہ ہو جائے اور خریدار کی رقم ضائع ہو جائے۔
اس لحاظ سے یہ بیع غرر (دھوکے کی بیع)
میں شامل ہے۔
(3)
بیع غرر کی تفصیل کے لیے دیکھیے، حدیث: 2194 تا 2197۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2218 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1554 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آفات سے پہنچنے والے نقصان کو وضع کرنے کا حکم دیا۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:3980]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: وضع الجوائح کا معنی یہ ہے کہ قدرتی آفات کے نتیجہ میں اگر پھل ضائع ہو جائے، تو بائع اس کی قیمت وصول نہ کرے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1554 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 4535 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´کئی سال تک کے لیے پھل بیچ دینے کا بیان۔`
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی سال تک کے لیے پھل بیچنے سے منع فرمایا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4535]
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی سال تک کے لیے پھل بیچنے سے منع فرمایا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4535]
اردو حاشہ: کسی باغ یا مخصوص درختوں کے پھل کئی سال کے لیے پیشگی فروخت کرنا شرعاََ نا جائز اور حرام ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں سراسر دھوکا ہے، نیز یہ ایک مجہول چیز کی بیع ہے۔ مزید برآں یہ کہ بائع ایک ایسی چیز کا سودا کر رہا ہے جس کا کوئی وجود نہیں اور خریدار بھی ایک ایسی چیز خرید رہا ہے جو معدوم ہے، پھر اس کی کوئی ضمانت بھی نہیں ہوتی کہ واقعی پیداوار ہو گی، لہٰذا فروخت کس چیز کی؟ لیکن اس حدیث سے بیع الصفات مستثنیٰ ہے۔ اس میں چیز کی جنس اور مدت کا تعین ہوتا ہے۔ وزن یا مقدار بھی معلوم ہوتی ہے۔ اور یکمشت رقم کی ادائیگی کر دی جاتی ہے۔ اسے بیع سلم یا سلف بھی کہتے ہیں۔ احادیث کی روشنی میں یہ جائز ہے۔ اس طریقے سے اختلاف اور دھوکے کی نوبت نہیں آتی۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4535 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 4630 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´کئی سال کی بیع کا بیان۔`
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی سال کی بیع کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4630]
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی سال کی بیع کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4630]
اردو حاشہ: کئی سال کا سودا اس لیے منع ہے کہ وہ چیز جس کا سودا کیا جا رہا ہے، موجود ہی نہیں۔ جب کسی معین چیز کا سودا کیا جا رہا ہو، مثلاً: اس درخت یا اس باغ کا پھل تو پھل کا موجود ہونا ضروری ہے کیونکہ ہو سکتا ہے یہ درخت یا یہ باغ تباہ ہو جائے، پھر اس کا پھل کہاں سے آئے گا؟ البتہ اگر سودا غیر معین چیز کا ہو، مثلاً: 20 من کھجور یا گندم وغیرہ تو سودا جائز ہے، خواہ ابھی گندم کاشت بھی نہ کی گئی ہو کیونکہ مجموعی طور پر دنیا یا منڈی سے کوئی چیز ناپید نہیں ہو سکتی، لہٰذا ایک کھیت سے نہ ہوئی تو دوسرے سے ہو جائے گی۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4630 سے ماخوذ ہے۔