حدیث نمبر: 2213
حَدَّثَنَا عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ خَالِدٍ النُّمَيْرِيُّ أَبُو الْمُغَلِّسِ ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، حَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ يَحْيَى ابْنِ الْوَلِيدِ بَنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : " قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أنَّ ثَمَنَ النَّخْلِ لِمَنْ أَبَّرَهَا ، إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ ، وَأَنَّ مَالَ الْمَمْلُوكِ لِمَنْ بَاعَهُ ، إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ کھجور کے درخت کا پھل اس شخص کا ہو گا جس نے اس کی تابیر ( پیوندکاری ) کی ، سوائے اس کے کہ خریدنے والا خود لینے کی شرط طے کر لے ، اور جس نے کوئی غلام بیچا اور اس غلام کے پاس مال ہو تو غلام کا مال اس کا ہو گا جس نے اس کو بیچا ، سوائے اس کے کہ خریدنے والا شرط طے کر لے ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب التجارات / حدیث: 2213
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح لغيره , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, إسحاق بن يحيي بن الوليد أرسل عن عبادة وھو مجھول الحال (تقريب:392), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 457
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 5062 ، ومصباح الزجاجة : 778 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 5/326 ، 327 ) ( صحیح ) » ( سند میں اسحاق بن یحییٰ مجہول راوی ہیں ، اور عبادہ رضی اللہ عنہ سے ملاقات بھی نہیں ہے ، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے ) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´قلم کئے ہوئے کھجور کے درخت کو بیچنے یا مالدار غلام کو بیچنے کا بیان۔`
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ کھجور کے درخت کا پھل اس شخص کا ہو گا جس نے اس کی تابیر (پیوندکاری) کی، سوائے اس کے کہ خریدنے والا خود لینے کی شرط طے کر لے، اور جس نے کوئی غلام بیچا اور اس غلام کے پاس مال ہو تو غلام کا مال اس کا ہو گا جس نے اس کو بیچا، سوائے اس کے کہ خریدنے والا شرط طے کر لے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2213]
اردو حاشہ:
ديكھيے، فوائد حديث: 2211
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2213 سے ماخوذ ہے۔