حدیث نمبر: 2204
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ شَبِيبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ قَيْلَةَ أُمِّ بَنِي أَنْمَارٍ ، قَالَتْ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ عُمَرِهِ عِنْدَ الْمَرْوَةِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي امْرَأَةٌ أَبِيعُ وَأَشْتَرِي ، فَإِذَا أَرَدْتُ أَنْ أَبْتَاعَ الشَّيْءَ سُمْتُ بِهِ أَقَلَّ مِمَّا أُرِيدُ ، ثُمَّ زِدْتُ ، ثُمَّ زِدْتُ حَتَّى أَبْلُغَ الَّذِي أُرِيدُ ، وَإِذَا أَرَدْتُ أَنْ أَبِيعَ الشَّيْءَ سُمْتُ بِهِ أَكْثَرَ مِنَ الَّذِي أُرِيدُ ، ثُمَّ وَضَعْتُ حَتَّى أَبْلُغَ الَّذِي أُرِيدُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَفْعَلِي يَا قَيْلَةُ ، إِذَا أَرَدْتِ أَنْ تَبْتَاعِي شَيْئًا ، فَاسْتَامِي بِهِ الَّذِي تُرِيدِينَ أُعْطِيتِ ، أَوْ مُنِعْتِ ، وَإِذَا أَرَدْتِ أَنْ تَبِيعِي شَيْئًا ، فَاسْتَامِي بِهِ الَّذِي تُرِيدِينَ أَعْطَيْتِ ، أَوْ مَنَعْتِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´قیلہ ام بنی انمار رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کسی عمرہ کے موقع پر مروہ پہاڑی کے پاس تھے ، میں نے عرض کیا کہ میں ایک خرید و فروخت کرنے والی عورت ہوں ، جب میں کوئی چیز خریدنا چاہتی ہوں تو پہلے اس کی قیمت اس سے کم لگاتی ہوں ، جتنے میں خریدنا چاہتی ہوں ، پھر تھوڑا تھوڑا بڑھاتی ہوں یہاں تک کہ اس قیمت تک پہنچ جاتی ہوں جو میں چاہتی ہوں ، اور جب میں کسی چیز کو بیچنا چاہتی ہوں تو اس کی قیمت اس سے زیادہ لگاتی ہوں ، جتنے میں بیچنا چاہتی ہوں ، پھر تھوڑا تھوڑا کم کرتی ہوں یہاں تک کہ اس قیمت کو پہنچ جاتی ہوں جتنے میں اسے میں دینا چاہتی ہوں ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قیلہ ! ایسا نہ کرو جب تم کوئی چیز خریدنا چاہو تو وہی قیمت لگاؤ جو تمہارے پیش نظر ہو چاہے وہ چیز دی جائے یا نہ دی جائے ، اور جب تم کوئی چیز بیچنا چاہو تو وہی قیمت کہو جو تمہارے پیش نظر ہے ، چاہے تم دے سکو یا نہ دے سکو “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب التجارات / حدیث: 2204
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, يعلي بن شبيب: لين الحديث (تقريب: 7842), لم يوثقه غير ابن حبان،و ابن خثيم عن قيلة مرسل كما قال الذھبي (الكاشف 433/3), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 457
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 18048 ، ومصباح الزجاجة : 776 ) ( ضعیف ) » ( عبد اللہ بن عثمان اور قیلة رضی اللہ عنہا کے درمیان انقطاع ہے نیز ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الضعیفة ، للالبانی : 2156 )